رواں صدی میں پیدا ہونے والی پاکستانی نسل کا ناپسندیدہ ترین لفظ لبرل ہے۔ اگرچہ قوی گمان ہے کہ اس نسل کی اکثریت نہ تو اس اصطلاح کا مفہوم سمجھتی ہے اور نہ اپنی اس نفرت کا تاریخی پس منظر جانتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1999 ءسے قبل لبرل کا لفظ پاکستان کی سیاسی لغت کا حصہ ہی نہیں تھا۔ اکتوبر 1999ءمیں پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو پاکستانی سیاست دو واضح دھاروں میں منقسم تھی۔ ایک قلیل دھارا سماجی روشن خیالی اور وسیع تر جمہوری بیانیے سے تاریخی وابستگی کے کارن فکری تنگ نظری نیز سیاسی اختیار پر ہیئت مقتدرہ کی بالادستی کا مخالف تھا۔ دوسرا دھڑا عددی اعتبار سے اکثریت میں تھا، سماجی طور پر قدامت پسند اور مغرب نواز پالیسیوں کا حامی تھا، عشروں سے وطن دوستی کے نام پر پیوستہ مفادات کا خوشہ چیں تھا۔ مذہب پسندی کا دعویٰ رکھنے والے اس دھڑے کو ہیئت مقتدرہ کی کھلی سرپرستی بھی حاصل رہی تھی۔ 1970 میں ملک کے پہلے عام انتخابات میں بزعم خود اسلام پسند کہلانے والے دھڑے کو یحییٰ آمریت کی مکمل مدد کے باوجود بری طرح شکست اٹھانا پڑی۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی۔ یہ دونوں جماعتیں معاشی اور سیاسی نقطہ نظر کی بنیاد پر انتخاب لڑ رہی تھیں۔ ان کے مقابل ریاست کے پسندیدہ نظریاتی بیانیے کے بل پر انتخاب لڑنے والے دائیں بازو کو بری طرح شکست ہوئی۔ ہارنیوالی ان جماعتوں کو یحییٰ آمریت سے مالی امداد ملنے کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔
ہمارے ملک میں جمہوری امنگوں اور ریاستی مفادات کے مابین کشمکش کی کہانی بہت پرانی ہے۔ دسمبر 1925 میں انڈین کمیونسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو ہندوستان پر حکمران برطانوی حکومت سرمایہ دار دنیا میں رہنما طاقت کا درجہ رکھتی تھی اور اشتراکی سوویت یونین سے برسرپیکار تھی۔ ہندوستان میں برطانوی حکومت کے دست و بازو مقامی فوجی اور غیر فوجی انتظامی ڈھانچے کو روز اول ہی سے اشتراکیت مخالف بیانیے کی تلقین کی گئی۔ آل انڈیا کانگرس میں پنڈت نہرو بائیں بازو کے ایک نسبتاً کمزور دھڑے کے نمائندہ سمجھے جاتے تھے۔ کانگرس کی فیصلہ سازی میں اصل کردار ہندو سرمایہ داروں کے نمائندے سردار پٹیل کا تھا جنہیں کانگرس میں ڈاکٹر محمد اشرف جیسے دانشور کی موجودگی بھی قبول نہیں تھی۔ برطانوی حکمرانوں کی اشتراکیت دشمنی کا یہ عالم تھا کہ بھگت سنگھ اور اس کے مٹھی بھر ساتھیوں پر بھی کمیونسٹ ہونے کا لیبل چسپاں کیا گیا۔ اشتراکی رہنما ایم این رائے، منصور الدین فیروز، اقبال شیدائی اور دادا امیر حیدر کو قید و بند کی طویل سزائیں کاٹنا پڑیں۔ اس ماحول میں تربیت پانے والے عسکری اور انتظامی اہلکاروں کی اشتراکیت دشمنی اس قدر پختہ تھی کہ 1941ءمیں سوویت یونین کا اتحادی طاقتوں سے اشتراک بھی اس فکری رجحان پر اثر انداز نہیں ہو سکا۔ آزادی کے بعد ہندوستان میں مستقل انتظامیہ مضبوط سیاسی قیادت کی اطاعت پر مجبور ہو گئی۔ پاکستان میں کمزور سیاسی قیادت نے برطانوی ہند میں انتظامیہ کی اشتراکیت دشمنی ورثے میں پائی۔ 1954 میں پاکستان کی کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگا دی گئی۔ پنڈی سازش کیس کی آڑ میں اشتراکی رجحان رکھنے والے دانشور، صحافی اور اساتذہ زیر عتاب آئے۔ اعلیٰ سرکاری مناصب کے حصول کا آسان راستہ مغرب نوازی کی شہرت رکھنا تھا۔ سی آئی ڈی کے ایک طاقتور عہدیدار انور علی نے ’مغربی پاکستان میں کمیونسٹوں کی سرگرمیاں‘ کے عنوان سے ایک کتابچہ تک لکھ ڈالا۔ مشرقی پاکستان میں معاشی اور سیاسی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو اشتراکی ایجنٹ قرار دینا سکہ رائج الوقت قرار پایا۔ سیٹو اور سینٹو کا رکن بننے کے بعد تو پاکستان گویا مغربی بلاک کا سکہ بند شراکت دار بن گیا۔ خواجہ ناظم الدین کے بعد محمد علی بوگرہ کو وزارت عظمیٰ پیش کی گئی جو اس وقت امریکا میں پاکستان کے سفیر تھے۔ ملک غلام محمد اور فوج کے سربراہ ایوب خان کی امریکی سفارت کاروں سے خفیہ ملاقاتوں کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ یہ تاثر کچھ غلط نہیں کہ امریکا میں پاکستان سے تعلقات کی ذمہ داری اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے زیادہ سی آئی اے اور پنٹاگون کے ذمہ رہی۔ پاکستان میں وزارت خزانہ کے لیے امریکا سے برآمدہ محمد شعیب سے شروع ہونے والا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ دسمبر1971 میں بھٹو صاحب کو بچے کھچے پاکستان کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے اسلام آباد بلایا گیا تو انہوں نے صدر نکسن سے ملاقات کر کے اپنی وفاداری کا یقین دلانا ضروری سمجھا۔ دسمبر 1979ءمیں افغانستان میں سوویت فوجوں کی آمد ضیاالحق کیلئے غیبی نعمت ثابت ہوئی۔ اندرون ملک ضیاالحق کو قدامت پسند مذہبی، تجارتی اور سماجی حلقوں کی حمایت حاصل تھی اور بیرونی دنیا میں امریکا اور سعودی عرب کی سرپرستی۔ ضیا آمریت کے ہر مخالف کو کمیونسٹ قرار دیا گیا۔ ذرائع ابلاغ اور تدریس کے شعبوں میں وسیع تطہیر کی گئی۔ اس طویل عرصے میں ہونے والی ذہن سازی سے قوم کا اجتماعی مزاج انتہا پسند قدامت پسندی کے سانچے میں ڈھل گیا۔ پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو اسے ضیا آمریت سے فاصلہ اختیار کرنے کے لیے روشن خیالی کا نقاب اوڑھنا پڑا۔ اس موقع پر قدامت پسندی کے مزمن مریضوں نے اپنے مخالفین کے لیے لبرل کی اصطلاح اختیار کی۔ ہر روشن خیال، روادار اور ترقی پسند آواز کو لبرل کا خطاب دے کر اخلاق باختہ اور مغرب زدہ قرار دیا گیا۔ 2008 کے بعد پراجیکٹ عمران شروع ہوا تو عمران خان کے ذاتی پس منظر کو پس پشت ڈال کر انہیں مغرب مخالفت کا مکھوٹا پہنایا گیا۔ نومبر 2011 میں عمران خان نے ایک انٹرویو میں خود کو لبرل قرار دیا تھا لیکن نومبر 2017 ءآتے آتے عمران خان نے ’خونی لبرل‘ کی اصطلاح اپنا لی۔ برسوں تک طالبان کی کھلی حمایت کرنیوالے عمران خان کو اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان کی سیاست میں حقیقی مقتدر طبقہ کسی بھی وقت اپنے گھوڑے تبدیل کر سکتا ہے۔ اپریل 2022ءکے بعد آنیوالی تبدیلیاں عمران خان کے سیاسی حیطہ خیال سے ماورا ہیں۔ عمران خان تو آج بھی مقتدرہ کے دریوزہ گر ہیں لیکن انکے حامی نوجوانوں کی اکثریت اس تاریخی پس منظر سے واقف ہے اور نہ اسکے فکری پہلو سمجھتی ہے۔ انکی نظر میں عمران خان کو مسیحا نہ سمجھنے والا ہر پاکستانی لبرل اور گردن زدنی ہے۔