ایران جنگ سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک ایسے موڑ پر آگئی ہے جہاں طاقت، سفارتکاری، عالمی مفادات آپس میں ٹکرا کر پاش پاش ہو رہے ہیں، اس خونیں جنگ نے پوری دنیا کی سیاسی بساط کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یورپی اتحادی امریکہ سے شدید ناراض ہیں ٹرمپ اندرونی سیاست میں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اس بحران نے یورپ کو امریکہ سے بہت دور کردیا ہے۔ جی سیون ممالک فوری جنگ بندی چاہتے ہیں جبکہ ٹرمپ اس بارے میں شدید کنفیوژن کا شکار ہیں۔ جنگ کے نتیجے میں امریکہ بھاری مالی نقصان سے دوچار ہو رہا ہے۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ ٹرمپ روس کو توڑنے والے گورباچوف کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں مگر امکانات پیدا ہو ر ہے ہیں کہ جنگ امریکہ کو منہ کے بل ضرور گرادے گی۔ امریکہ کا دنیا پر دبدبہ اور ریاستوں پر تسلط قائم کرنیکی ظالمانہ پالیسی ناکام ہوچکی۔ عرب و خلیجی ممالک کے حکمران ان سوچوں میں گم ہیں کہ ہمارے اربوں ڈالر بھی گئے اور امریکہ ہمارا دفاع بھی نہ کر سکا، قطر، کویت، بحرین، عمان،خصوصاً متحدہ عرب امارات کو ایرانی میزائلوں نے جس طرح نشانہ بنایا اسکی بنیادی وجہ صرف ایک ہے کہ مذکورہ ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی اور حملوں میں سہولت کاری کی وجہ سے امریکہ واسرائیل کوایران پردوبارہ حملے کا موقع ملا، حال ہی میں ایران میں گرفتار جاسوسوں کے تیس رکنی گروہ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک نے دو خلیجی ممالک کو ایران کی اہم شخصیات اور تنصیبات بارے معلومات فراہم کیں اور وہاں سے یہ معلومات اسرائیل کو منتقل ہوئیں جسکی وجہ سے ایران کو اتنے بڑے جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران جنگ مکمل تباہی یا امن کے ایک موقع کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے واضح کردیا ہے کہ دنیا کا معاشی انجن ایران کے بغیر نہیں چل سکتا۔ امریکہ نے یوکرین جنگ میں روس کیخلاف جوچال چلی تھی آج امریکہ کو اس محاذ پر بھی شکست کا سامنا ہے۔ ٹرمپ کی بے بسی کا عالم دیکھئے کہ جس روس کے تیل کی خریدوفروخت پر اس نے عالمی پابندیاں عائد کی تھیں اسی عطار کےلڑکے سے دوا لینے پر مجبور ہیں۔ اسے کہتے ہیں عالمی نظام کے مطلب و مفادپرست ٹھیکیداروں کی جنگ، روس تیل سپلائی بحال ہونے سے اب تک ٹیکس کی مد میں دو ارب ڈالر کما چکا ہے اور یہ سلسلہ اب پوری رفتار سے جاری ہے ایران جسے امریکہ مکمل طور پر تباہ و برباد کرنے کے دعوے کر رہا تھا جنگ کے دوران اسکے تیل کی فروخت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ٹرمپ کی پالیسی گئی تیل لینے، اب ہر روز جلد جنگ ختم ہونے کے متضاد اعلانات پر گزارا کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کسی ایسی کوشش میں ہیں کہ کوئی رابطہ کار آئے اور انکی ایران سے جان چھڑائے، اللّٰہ دنیا کا حساب دنیا میں کر رہا ہے۔ ایران جنگ میں امریکہ کی عبرت ناک ،ذلت آمیز شکست نوشتہ دیوار ہے۔ پوری دنیا ٹرمپ پر تھو تھو کر رہی ہے ہزاروں فلسطینی ،کشمیری، ایرانی شہداءکی شہادتیں رنگ لا رہی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں کون سا ایسا ملک ہے جہاں سے امریکی سفارتکار اپنے سفارت خانے بند کرکے نہیں چلے گئے، کون سا ایسا فوجی اڈا ہے جو ایرانی میزائلوں کے نشانے پر نہیں ہے دو بڑے جنگی بحری بیڑے ایرانی میزائلوں کی زد میں آکر غیرفعال ہو چکے ہیں۔ امریکہ کو ان بحری بیڑوں کو ایران کے قریبی سمندروں سے کہیں دور ٹھکانے پر منتقل کرنا پڑا ہے۔ پھر بھی صاحب بہادر کہتے ہیں کہ ہم یہ جنگ جیت رہے ہیں۔ ہم نےملک میں پیٹرول پمپ تو جلتے دیکھے تھے اب مشرق وسطیٰ میں پیٹرول بم پھٹتا بھی دیکھ رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی سیاست ایک نیا رُخ اختیارکررہی ہے۔ اب ہتھیاروں کی بجائے سفارتکاری کو آزمایا جا رہا ہے ۔چین، روس ،سعودی عرب ، پاکستان ،ترکیہ جنگ بندی کی کوششوں میں اپنا بھرپور سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یورپی ممالک بھی چاہتے ہیں کہ وہ امریکہ پر کم سے کم انحصار کرتے ہوئے دنیا کیساتھ اپنی شرائط پر تعلقات استوار کریں۔ اٹلی، فرانس ایران سے آبنائے ہرمز سے اپنے تیل بردار جہازوں کو گزارنے کی اجازت مانگ رہے ہیں برطانیہ بھی یہی چاہتا ہے۔ تاہم تمام تر پیش رفت اسی وقت ممکن ہے جب ایران کیساتھ ٹھوس شرائط پر کوئی واضح مذاکرات یا معاہدہ ہو، ایران مارو یا مر جاؤ کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ٹرمپ بدستور نیتن یاہو کی کٹھ پتلی بنے اچھل کود کر رہے ہیں حالات کا بہاؤ بتا رہا ہے کہ اس وقت سعودی عرب اور پاکستان کا خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں سب سے نمایاں کردار ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان موساد کی سازشوں کو بھانپ چکے ہیں اور ایران کی مشکلات کو بھی سمجھتے ہیں۔ سنگین ترین حالات میں انکا صبروتحمل اور تدبر مثالی قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جسکی موجودہ سیاسی و عسکری قیادت کو عالمی سفارتکاری میں تاریخی عروج حاصل ہے۔ پاکستان بیک وقت واشنگٹن ،تہران اور مشرق وسطیٰ کے جنگ سے متاثرہ تمام ممالک سے اچھے برادرانہ سفارتی و تجارتی تعلقات بھی رکھتا ہے، نازک ترین حالات میں وزیراعظم شہبازشریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ہنگامی دورہ سعودی عرب اور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان سے خصوصی ملاقات امن کوششوں میں اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے، توقع رکھی جا سکتی ہے کہ آئندہ دنوں میں طاقت نہیں سفارتکاری کامیاب ہوگی۔