• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار کئے جانے والے ’’آبنائے ہرمز‘‘ پر دنیا کی نظریں مرکوز ہیں اور امریکہ، اسرائیل، ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر بھی سوالات کھڑے کردیئے ہیں، اس صورتحال نے ایک بحران کی کیفیت اختیار کرلی ہے جس سے پاکستان سمیت پوری دنیا متاثر ہورہی ہے۔ خلیج فارس کو بحیرہ عمان اور عالمی سمندروں سے ملانے والی یہ تنگ گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل اور معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، دنیا کے تقریباً ایک تہائی سمندری تیل کی ترسیل اِسی راستے سے ہوتی ہے۔ خلیجی ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور قطر اپنی تیل کی برآمدات کا بڑا حصہ اسی گزرگاہ کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق آبنائے ہرمز سے یومیہ 30 سے 40 بحری جہاز گزرتے ہیں جو 20 ملین بیرل سے زائد تیل اور گیس دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچاتے ہیں۔ یہاں سے گزرنے والے 83 فیصد تیل کے خریدار ایشیائی ممالک جبکہ صرف 7.5 فیصد تیل یورپ کو برآمد کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سمندری راستے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات سب سے پہلے ایشیائی معیشتوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 78 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 100ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں جس سے پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر جنگ طویل ہو گئی اور تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو یہ بحران مزید شدت اختیار کرجائے گا۔

پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے خطے میں تیل سپلائی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو پاکستان تیل اور گیس کی فراہمی کی سنگین صورتحال سے دوچار ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے پاکستان کا درآمدی بل میں 6 سے 7 ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتا ہے اور اگر تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئیں تو پاکستان کو جی ڈی پی میں ایک سے 1.5 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جسکی ملکی معیشت متحمل نہیں ہوسکتی۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے قبل ہی یہ واضح کرچکا تھا کہ اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کو تیل کی ترسیل روک دی جائے گی لیکن امریکہ نے اِسے صرف دھمکی سے تعبیر کیا مگر حالیہ امریکی اور اسرائیل حملوں کے بعد ایران نے اپنی دھمکی پر عمل کردکھایا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مختلف تجارتی اور تیل بردار بحری جہازوں پر ہونے والے ایرانی حملوں کے بعد دنیا بھر میں تیل کا بحران شدت اختیار کرچکا ہے۔ ایران نے مزید واضح کردیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل رک جاتی ہے تو اس کے اثرات تیل کی عالمی منڈیوں پر پڑنے کی صورت میں تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں، اس طرح اس جنگ کا سب سے خطرناک پہلو عالمی توانائی اور سمندری تجارت کیلئے پیدا ہونے والا وہ بحران ہوگا جس سے پاکستان سمیت پوری دنیا متاثر ہوسکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں سب سے زیادہ فائدہ امریکہ اور روس کو ہورہا ہے جن کا شمار تیل پیدا کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ان ممالک کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہورہا ہے۔

آبنائے ہرمز محض ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں پیدا ہونے والا کوئی بھی بحران صرف ایک علاقائی تنازع نہیں رہتا بلکہ عالمی سیاست، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی معیشت پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوانے اور محفوظ بنانے میں امریکہ کی مدد کریں بصورت دیگر نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑجائیگا۔ امریکہ کے اتحادی ممالک جن میں برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان، جرمنی اور نیٹو کے دیگر ممالک شامل ہیں، آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے امریکی صدر کی اپیل مسترد کرچکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ہماری جنگ نہیں۔ موجودہ غیر یقینی عالمی صورتحال میں سب سے زیادہ ضرورت ذمہ دارانہ قیادت اور دانشمندانہ فیصلوں کی ہے۔ عالمی برادری کیلئے ضروری ہے کہ اس خطے میں استحکام کو یقینی بنانے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے۔ اگر خطے کی طاقتیں اور بین الاقوامی قوتیں دانشمندی، تحمل اور سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کریں تو اس اہم سمندری راستے کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے لیکن اگر آبنائے ہرمز کا بحران مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف خلیجی خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آسکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی طاقتیں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دیں اور خطے کے دیگر ممالک بھی کشیدگی کم کرنے کیلئے مثبت کردار ادا کریں۔ اگر بروقت یہ اقدامات نہ کئے گئے تو یہ تنازع محض علاقائی کشیدگی نہیں رہے گا بلکہ عالمی بحران کی شکل اختیار کرسکتا ہے جس سے دنیا کا کوئی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔

تازہ ترین