بالی ووڈ کے معروف اداکار سلمان خان نے فلم کالا ہرن کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔
درخواست میں اداکار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فلم کے میکرز نے ان کے پرسنالٹی اور پبلسٹی رائٹس کی خلاف ورزی کی ہے اور فلم کی ریلیز پر پابندی لگانے کی استدعا کی ہے۔
معاملہ اس وقت سامنے آیا جب فلم کے پہلے لک پوسٹر کی ریلیز ہوئی، جس کے بارے میں سلمان خان کی قانونی ٹیم نے دعویٰ کیا کہ اس میں شامل کردار اور انداز اداکار کی عوامی شخصیت سے مشابہت رکھتے ہیں۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پوسٹر میں دکھایا گیا کردار ایک ایسا بریسلیٹ پہنے ہوئے ہے جو سلمان خان کے مشہور ٹرکواز بریسلیٹ سے مشابہت رکھتا ہے۔
قانونی ٹیم کے مطابق اس طرز کی عکاسی سے ناظرین یہ تاثر لے سکتے ہیں کہ فلم یا اس کے کردار براہِ راست سلمان خان سے منسلک ہیں، حالانکہ اس کی کوئی اجازت نہیں دی گئی۔
مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ درخواست میں ماضی کے مشہور بلیک بَک شکار کیس کا حوالہ بھی شامل ہے، جس سے متعلق خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ فلم میں ایسے اشارے سلمان خان کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلم کسی بھی صورت سلمان خان کی زندگی یا شخصیت پر مبنی نہیں۔
ان کے مطابق فلم کا موضوع بَشنوئی کمیونٹی اور جنگلی حیات کے ساتھ ان کے تعلق پر مبنی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے معاملے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کر لیا۔