وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بجٹ میں ہم نے ٹیکس اور ایکسپورٹ کے نظام کے لیے کام کیا۔
اسلام آباد میں دیگر وزراء کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ 70 ارب روپے کی ایڈیشنل سبسڈی دی گئی ہے، بجٹ میں کوشش کی ہے کہ برآمدات بڑھانے کے لیے قابلِ عمل اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں 70 ارب کی سبسڈی دی گئی تاکہ ایکسپورٹر کو ساڑھے 4 فیصد پر فناسنگ دستیاب رہے، زرعی مشینری کے لیے کسٹم ڈیوٹیز کو ختم کر دیا گیا ہے، زرعی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی کا حجم 20 ارب سے تجاوز کر گیا ہے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں وسعت لائی جائے گی، ٹیکس کا نیا جدید خود کار نظام لایا جا رہا ہے، انرجی انفرااسٹرکچر پر دباؤ ہے اور کچھ عرصہ آئندہ مالی سال بھی یہ دباؤ رہے گا۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ صوبوں کی طرف سے مرکز کی امداد پر شکر گزار ہوں، یہ سہولت آئندہ 3 مالی سال جاری رہے گی، ہمیں اب ترقیاتی منصوبوں کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی طرف جانا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومتِ سندھ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کر کے دکھائی ہے، حکومت صرف ان منصوبوں پر ترقیاتی بجٹ استعمال کرے جہاں کمرشل طور پر کچھ نہیں ہو سکتا۔
’ہماری کوشش تھی کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کیا جائے‘
اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ یہ عوامی اور صنعت کار کا بجٹ ہے، یہ عوام کا معاشی بوجھ کم کرنے کا بجٹ ہے، یہ بجٹ اس کا ہے جو اپنا گھر بنانا چاہتا ہے، ہماری کوشش تھی کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ بزنس کمیونٹی سے بات چیت کے تناظر میں ٹیکس بوجھ کم کیا گیا، شپنگ انڈسٹری پر ٹیکس کم کیا گیا، بجٹ سے روزگار ملے گا، یہ تنخواہ دار طبقے، صنعت کار، ایکسپورٹر اور تعمیراتی شعبے کا بجٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں تمام شعبوں پر بوجھ کم کرنے کی کوشش کی ہے، حکومت کی پہلی ترجیح تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کو کم کرنا تھا، ہم نے ایکسپورٹ انڈسٹری کی ڈیمانڈز کو سامنے رکھ کر اقدامات کیے ہیں۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ 2 لاکھ روپے ماہانہ کمانے والوں پر کُل ٹیکس 13500 روپے ماہانہ ہے،1 لاکھ ماہانہ تنخواہ پر کُل ٹیکس 500 روپے ماہانہ ہے، سال میں 6 لاکھ کمانے والوں پر ٹیکس صفر ہے۔
’وزیرِ اعظم نے بجٹ میں وعدے وفا کردیے‘
پریس کانفرنس کے دوران بات کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا کہ ایف بی آر سے سفارش کلچر کا خاتمہ کر دیا، وزیرِ اعظم نے بجٹ میں وعدے وفا کر دیے۔
عطاء تارڑ نے کہا کہ ایف بی آر کی اصلاحات تاریخی ہیں، ایف بی آر میں سیاسی کلچر بدل گیا، سفارش پر نوکری ختم ہو جاتی ہے، ایف بی آر میں اربوں روپے کا لیکیج تھا۔
انہوں نے کہا کہ شوگر انڈسٹری میں 60 ارب روپے کی لیکیج تھی، ایک تنخواہ دار آدمی شوگر انڈسٹری کا بوجھ کیوں اٹھائے؟
عطاء تارڑ نے کہا کہ متوسط طبقے کے لیے ریلیف کے اقدامات سے حالات بہتر ہوں گے، ماضی میں ملک کے ڈیفالٹ پر شرطیں لگ چکی تھیں، حکومت معاشی استحکام لائی اور اب گروتھ کی طرف گامزن ہے، دنیا بھر میں پاکستان کے معاشی استحکام کو تسلیم کیا گیا۔