{ OL 5 }وکٹر ہیوگو نے لکھا تھا کہ بحران کا رسہ ان گنت مہین ریشوں سے مرتب ہوتا ہے۔ اب نظریے (Ideology) کی اصطلاح ہی کو لیجیے۔ انقلاب فرانس کے بعد عہد تشدد میں روشن خیال فلسفی انتواں دیستو د ترایسی (Antoine Destutt de Tracy) نے 1796 میں قید خانے میں بیٹھ کر ’نظریے‘ کی اصطلاح تراشی تھی۔ مراد یہ تھی کہ اقدار، اصولوں اور حکمت عملی کا عقل و خرد کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ایک مربوط اجتماعی سیاسی نمونہ۔ یہ اصطلاح ہم عصر فکری تناظر میں اس طرح پیوست تھی کہ انیسویں صدی نظریات کا عہد (Age of ideologies) کہلائی۔ اس صدی میں کہیں مارکس نے مادی فلسفے کی بنیادپر معیشت اور تاریخ کی نظریہ سازی کی تو کہیں ڈارون نے حیاتیاتی ارتقا کی بنیاد پر تاریخ کی تفہیم پیش کی۔ سگمنڈ فرائیڈ نے علم نفسیات کے معدن سے ایک مرتب نمونہ برآمد کیا تو ڈرخائم نے سماجی ارتقا کے خدوخال بیان کیے۔ جارج ہولیوک نے مذہب اور ریاست کی علیحدگی کو منظم زاویے بخشے تو قومی ریاست اور حق خود ارادیت جیسے تصورات نے جدید دنیا کا خاکہ ترتیب دیا۔ ہم اہل مشرق تو نشاۃ ثانیہ کے بعد سے جدید دنیا سے کٹ گئے تھے۔ البتہ ہمیں ہر نئی ایجاد اور دریافت کو اپنے زائد از میعاد تصورات کے اندھیرے غار سے دریافت کرنا مرغوب تھا۔ اٹلی میں مسولینی نے فسطائیت کا پھریرا لہرایا تو ہم اس کا بیلچہ اٹھا لائے۔ روس میں اشتراکی انقلاب نے ہمہ گیر حکومت قائم کی تو ہمیں بھی ضابطہ حیات کا شوق چرایا۔ ناصر علی سرہندی نے کہا تھا۔ ’شد پریشان خواب من از کثرت تعبیر ہا‘ (کثرت تعبیر سے میرا خواب دھندلا گیا)۔ ہم نے اپنے وطن کے ساتھ کچھ ایسا ہی سلوک کیا۔ آزادی کی تحریک سے ہم بوجوہ لاتعلق تھے۔ تقسیم کیلئےہم نے جو کاوش کی، اس کے اہداف اور حکمت عملی پر گہرا غور و فکر ہمیں غیرضروری محسوس ہوتا تھا۔ ستمبر 1939 میں دوسری عالمی جنگ چھڑنے کے بعد ہم نے جانا کہ ہندوستان میں دو قومیں ہندو اور مسلمان آباد ہیں اور آزادی ملنے کے بعد ان دو قوموں کا ایک ریاست میں اکٹھے چلنا دشوار ہو گا۔ چنانچہ ہم نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ کیا۔
1935 کے قانون حکومت ہند کی دفعہ 298 کے مطابق کسی شہری سے مذہب، نسل، ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا تھا چنانچہ ہم دو قومی نظریے کی بنیاد پر ایک جمہوری قومی ریاست کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس مطالبے میں تبادلہ آبادی کا کوئی تصور تھا اور نہ مذہبی حکومت کا کوئی ذکر تھا۔ مذہبی پیشوائوں کی بڑی تعداد تقسیم ہند کی مخالف تھی۔ تاہم بنگال اور پنجاب کی تقسیم کے دوران فسادات کےنتیجےمیں مغربی پاکستان سے تقریباً تمام ہندو اور سکھ آبادی ہندوستان منتقل ہو گئی لیکن ہندوستان میں ساڑھے تین کروڑ مسلمان باقی رہے۔ نئے ملک میں سیاسی اقتدار کا مرکزہ مغربی پاکستان قرار پایا۔ مطالبہ پاکستان کے مخالف بہت سے مذہبی پیشوا پاکستان چلے آئے اور یہاں مسلم آبادی کی غیر متناسب اکثریت دیکھتے ہوئے مذہبی حکومت کا خواب دیکھنے لگے۔ بابائے قوم نے واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان میں تھیوکریسی نہیں بلکہ جمہوری حکومت قائم ہو گی لیکن بدلے ہوئے حالات میں مطالبہ پاکستان کے مخالف پیشوا حکومت کے دعویدار بن گئے۔ مولانا احتشام الحق تھانوی کی آپ بیتی کے صفحہ 370 پر لکھا ہے کہ ’قائداعظم کی 11 اگست 1947 کی پالیسی تقریر پاکستان کی فکری تاریخ کا پہلا حادثہ تھا‘۔ جماعت اسلامی کے ترجمان پرچے ’چراغ راہ‘ میں دسمبر 1960 کا شمارہ ’نظریہ پاکستان نمبر‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ یہ اس اصطلاح کا پہلا تعارف تھا۔ 1969 میں یحییٰ خان نے شیر علی پٹودی کو وزارت اطلاعات سونپی۔ شیر علی خان اپنے دبتے ہوئے قد کی مناسبت سے فوج میں بونا پارٹ کہلاتے تھے اور جماعت اسلامی کے رہنما میاں طفیل محمد کے گہرے دوست تھے۔ اس تعلق سے نظریہ پاکستان، اسلام پسند کی اصطلاحات برآمد ہوئیں نیز 31 مئی 1970 کو یوم شوکت اسلام منایا گیا۔ میجر جنرل غلام عمر اور این اے رضوی کی مدد سے آزمودہ سرکاری مہروں میں بڑی رقوم تقسیم کی گئیں۔ فروری 1970 میں 113 علما نے ’نظریہ پاکستان‘ کی مخالف جماعتوں کے خلاف کفر کا فتویٰ دیا۔ تاہم عوام نے دسمبر 1970 میں اسلام پسند جماعتوں کو بری طرح مسترد کر دیا۔ جماعت اسلامی صرف چار نشستیں جیت سکی۔ اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے نوابزادہ شیر علی وزارت سے مستعفی ہو گئے۔ 25 مارچ 1971 کو مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع ہوا جس میں جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیمیں’الشمس‘ اور’البدر‘ حکومتی کارروائی کا بھرپور ساتھ دے رہی تھیں۔ ستمبر1971 میں خانہ جنگی کے عروج پر پنجاب ٹیکسٹ بورڈ نے’ نظریہ پاکستان اور نصابی کتب ‘کے عنوان سے ایک تین روزہ سیمینار منعقد کیاجس میں پاکستان بھر سے اسلام پسند دانشور مدعو کیے گئے۔ اس مذاکرے میں صرف جسٹس حمود الرحمن، پروفیسر حمید احمد خان اور انتظار حسین کو سچ بولنے کی توفیق ہو سکی۔ اس سیمینار میں مشرقی پاکستان کے حالات کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔ بعد ازاں ضیا آمریت نے نظریہ پاکستان کو جمہوریت کچلنے کا ہتھیار بنا لیا۔ بابائے قوم کے دو قومی نظریے کو نظریہ پاکستان کا نام دینا دراصل عوام کے حق حکمرانی سے باضابطہ انکار تھا۔ نظریہ پاکستان جمہوریت کی بجائے مذہبی پیشوائیت کا اعلان ہے۔ ضیاالحق نے افواج پاکستان کا ماٹو ہی تبدیل نہیں کیا بلکہ فوج کا آئینی منصب بھی بدل دیا۔ آئین افواج پاکستان کو ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت سونپتا ہے۔ ضیاالحق نے اس فرض میں نظریاتی سرحدیں بھی شامل کر دیں۔ نظریاتی ریاست جمہوری ریاست نہیں ہو سکتی۔ نظریاتی ریاست میں منظور شدہ بیانیے سےاختلاف رائے کی اجازت نہیں ہوتی۔ دوسری طرف جمہوریت ریاست سے وفاداری کے دائرے میں حقوق طلب کرنے کا نام ہے۔ پاکستان کی نصابی کتب میں تاریخ مسخ کی گئی ہے۔ اہل دانش، اساتذہ اور ذرائع ابلاغ کی عشروں سے ذہنی تطہیر کی گئی ہے۔ اگر ہمیں واقعی ملک کو انتہا پسند عناصر سے پاک کرنا ہے تو ہمیں خود ساختہ ’نظریہ پاکستان‘ ترک کر کے بابائے قوم کے جمہوری خواب کی طرف پلٹنا ہو گا۔