بالی ووڈ کے مایاز اداکار نواز الدین صدیقی کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ کے فلم ساز حقیقت سے آنکھیں چرا کر جھوٹ پر مبنی فلمیں بنا رہے ہیں اور بھارتی معاشرے کو مثبت سمت دینے میں ناکام ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک تقریب کے دوران نواز الدین صدیقی سے میزبان نے پوچھا کہ کیا فلم سازوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کام کے ذریعے معاشرے کی رہنمائی کریں، خاص طور پر عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں؟
میزبان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جی ہاں، بالکل، فلم سازوں کو معاشرے کو غلط سمت میں نہیں لے جانا چاہیے۔ سچائی بہت اہم ہے اور آج ہر کوئی جانتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لوگ ان فلموں کے پیچھے کی حقیقت جانتے ہیں، چاہے کوئی اسے زبانی طور پر نہ کہے۔
جب میزبان نے پوچھا کہ کیا بالی ووڈ بیانیہ پر مبنی فلمیں بناتا ہے، تو صدیقی نے اور بھی سخت جواب دیا کہ نہیں، ہم اپنی فلموں میں جھوٹ بول رہے ہیں۔ ہم یہاں جعلی فلمیں بنا رہے ہیں اور ہر کوئی اس بات کو جانتا ہے۔
میزبان نے ان سے پوچھا کہ کیا عالمی حالات انہیں فکر مند کرتے ہیں اور کیا وہ موجودہ واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں؟ جس پر نواز الدین صدیقی نے جواب دیا کہ ہر کوئی دیکھ رہا ہے کہ کیا سچ ہے، کیا جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے، کون سا بیانیہ بنایا جا رہا ہے، سب جانتے ہیں۔
اداکار سے یہ بھی پوچھا گیا کہ انہوں نے ہندی زبان میں پاکستانی مصنف سعادت حسن منٹو کا کردار ادا کرنے کی تیاری کیسے کی؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے منٹو کے کام کا مطالعہ کیا اور ان کی سخت حقیقتیں لکھنے کی خواہش نے مجھے سمجھا دیا کہ مصنف کیسا انسان تھا۔
نواز الدین صدیقی نے منٹو کو بے خوف قرار دیا اور کہا کہ آج کے مصنف مختلف سوچتے ہیں، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کردار کی اداکاری میں کافی اصلاح کی گئی، کیونکہ منٹو کی ویڈیوز موجود نہیں ہیں۔
پروگرام کے دوران اداکار سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا بھارتی سیاست میں اداکاروں کے لیے شامل ہونا مشکل ہو گیا ہے، جس پر ’گینگس آف واسی پور‘ کے اسٹار نے کہا کہ لوگوں کو اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ میرے پاس سیکھنے کے لیے اتنی فنون موجود ہیں کہ میں ایک زندگی صرف اسی میں گزار سکتا ہوں اور میری سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں۔
نوجوان اداکاروں کو نصیحت دیتے ہوئے نواز الدین صدیقی نے کہا کہ انہیں محنت کرنی چاہیے، تربیت حاصل کرنی چاہیے اور مشق کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ وہ قسمت پر بھروسہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ انڈسٹری کے کئی سینئر لوگ اپنی کامیابی کو قسمت کا نتیجہ مانتے ہیں، مگر میرا قسمت پر بالکل یقین نہیں ہے۔
اداکار نے کہا کہ نوجوان اداکاروں کو اتنی محنت کرنی چاہیے کہ انہیں نظر انداز کرنا ناممکن ہو جائے، یہی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ لوگ اپنے خوابوں کا تعاقب کبھی نہ چھوڑیں، اگر آپ 10 بار ناکام ہوں، تو گیارہویں بار کامیاب ہو سکتے ہیں۔