• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روزانہ 17 منٹ سائیکلنگ دماغ کو بہتر بنانے کے ساتھ ڈیمنشیا سے بھی محفوظ رکھتی ہے، تحقیق

ایک سائنسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دماغ کو مضبوط بنانے اور ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرنے کے لیے روزانہ صرف 17 منٹ سائیکل چلانا مفید ہے، اس تحقیق کے مطابق یہ آپ کے دماغ کو بہتر بنا سکتی ہے اور ڈیمنشیا سے بھی بچاؤ میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔

اس حوالے سے برطانیہ کے سائنسدانوں نے درمیانی عمر کے 23 زیادہ وزن والے بالغ افراد پر تحقیق کی۔ ان میں سے آدھے افراد کو 12 ہفتوں پر مشتمل سائیکلنگ پروگرام دیا گیا، جبکہ باقی افراد نے بہت کم یا بالکل بھی ورزش نہیں کی۔

 ورزش کے بعد خون کے ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ سائیکل چلانے والوں میں بی ڈی این ایف (برین ڈرائیوڈ نیوروٹروفک فیکٹر) کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کیمیکل کو اکثر دماغ کی کھاد کہا جاتا ہے کیونکہ یہ نیورونز کی نشوونما اور ان کے درمیان رابطے کو بہتر بناتا ہے۔

دوسری طرف وہ افراد جو ورزش نہیں کرتے تھے ان میں اس کیمیکل کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔ دماغی اسکینز سے پتہ چلا کہ سائیکل چلانے والوں کے دماغ میں توجہ اور کنٹرول سے متعلق کاموں کے دوران کم سرگرمی تھی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دماغ زیادہ موثر طریقے سے کام کر رہا تھا۔

اگرچہ 12 ہفتوں کے دوران یادداشت میں بہتری نہیں دیکھی گئی، مگر محققین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے تحقیق کا دورانیہ کم ہونے کی وجہ سے یہ تبدیلی واضح نہ ہو سکی ہو۔ 

اس تحقیقی ٹیم کی قیادت یونیورسٹی کالج لندن کے شعبہ ایکسر سائز فزیالوجسٹ ڈاکٹر فلیمینیا رونکا نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ جسمانی فٹنس میں اضافہ ورزش کے دوران بی ڈی این ایف کی سطح کو بڑھا سکتا ہے، جو بعد میں دماغی کارکردگی کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ میں اس وقت 70 لاکھ سے زیادہ بالغ افراد ڈیمنشیا (ذہنی پسماندگی ونسیان کی بیماری) کا شکار ہیں، اور اندازہ ہے کہ 2050 تک یہ تعداد تقریباً دگنی ہو جائے گی۔

یہ تحقیق جریدہ طبی جریدہ برین ریسرچ میں شائع ہوئی اور شرکاء کو یونیورسٹی اور کمیونٹی اشتہارات کے ذریعے منتخب کیا گیا۔ جن کی اوسط عمر 35 سال تھی۔ ان میں سات خواتین شامل تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ہفتے میں تین بار سے کم ورزش کرتی ہیں۔ ورزش والے گروپ کو 12 ہفتوں تک ہر ہفتے چار سائیکلنگ سیشنز مکمل کرنے کو کہا گیا، جن میں ہر سیشن 30 سے 45 منٹ کا تھا۔

اس طرح یہ روزانہ تقریباً 17 سے 26 منٹ کی ورزش بنتی ہے۔ پہلے چھ ہفتوں میں زیادہ تر ہلکی سائیکلنگ کروائی گئی، جبکہ اگلے چھ ہفتوں میں شدت بڑھا دی گئی۔ محققین نے محنت کی سطح کو ریٹنگ آف پرسیوڈ ایکسرشن کے ذریعے ناپا، جس میں افراد 1 سے 10 تک اس بات کی درجہ بندی کرتے ہیں کہ وہ کتنی محنت محسوس کر رہے ہیں۔

پہلے مرحلے میں شرکاء نے ہر ہفتے ایک ہلکی ورزش، دو درمیانی شدت کی ورزشیں، ایک زیادہ شدت والی ورزش کی۔ جبکہ دوسرے مرحلے میں دو زیادہ شدت والی ورزشیں، ایک درمیانی شدت کی اور ایک ہلکی ورزش کی۔

ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ سائیکل چلانے والوں میں ورزش کے بعد بی ڈی این ایف کی سطح میں واضح اضافہ ہوا، تاہم آرام کی حالت میں دونوں گروہوں میں یہ سطح ایک جیسی رہی۔ دماغی اسکینز سے یہ بھی پتہ چلا کہ ورزش کرنے والے گروہ کے دماغ کے اگلے حصے میں سرگرمی کم تھی، جو منصوبہ بندی، توجہ اور یادداشت جیسے اہم افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔

ڈاکٹر فلیمینیا رونکا کے مطابق پری فرنٹل کارٹیکس میں کم سرگرمی ممکنہ طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ افراد جنہوں نے زیادہ بی ڈی این ایف پیدا کیا، ان کے دماغ زیادہ مؤثر طریقے سے کام کر رہے تھے۔ محققین کا کہنا ہے کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ورزش جسم کی بی ڈی این ایف خارج کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے۔

صحت سے مزید