ایران کو جنگ بندی نہیں مستقل حل چاہئے ۔ پچھلے دونوں کالموں کا ایک فقرہ دُہرایاکہ ’’ایران یہ جنگ ہار نہیں سکتا کہ ایران کی بقا کا سوال ہے جبکہ امریکہ یہ جنگ جیت نہیں سکتا مگر اُسے یہ جنگ ہرحال میں جیتنی ہے کہ ساکھ ، عزت و ناموس داؤ پر ہے‘‘ ۔ عجیب صورتحال ہے کہ حملہ آور بغیر تیاری اور پلاننگ کے اور جس پر حملہ ہوا وہ 20 سال سے تیار ، انتظار میں تھا ۔ 28 فروری کو جب ایران پر بہیمانہ بمباری کی گئی توامریکہ اسرائیل کا خیال اتنا کہ جب سپریم لیڈر ، 40 قائدین سمیت ساری قیادت کو شہید کر دیا گیا تو ملک انارکی اور CHAOS میں ہوگا۔نشانے بہ ہدف رہے تو فتح کے ڈھول بجانا بنتا تھا ۔ علیحدہ بات کہ سخت جان ایران 25 سال سے اس جنگ کی تیاری میں تھا ۔ چنانچہ اتنی بڑی قتل و غارت اور Decapitationکے باوجود کندھے جھٹکے بغیر میدان عمل میں خم ٹھونک کر سامنے آگیا ۔ 28 فروری ہی کو اگلے چند گھنٹوں میں نہ صرف کثیر تعداد میں میزائل داغ دیئے ، درجن بھر ممالک ایرانی حملوں کی لپیٹ میں تھے ۔ ایران نے بہترین جنگی حکمت عملی اپنائی اور آبنائے ہر مز کو پلک جھپکتے بند کر ڈالا ۔
ایران حملے سے چند ہفتےقبل امریکہ نے وینزویلا پر نیٹ پریکٹس کی ، وینزویلا کے صدر نکلس مادورو کو اغوا کیا تو پورا ملک پکے پکائے پھل کی طرح گود میں تھا ۔خیال یہی کہ ایران کو بھی انہی لائنز پرہتھیایا جا سکتا ہے ۔ اس سے پہلے عراق ، افغانستان ، لیبیا ، شام ، یمن ، صومالیہ ، سوڈان وغیرہ کئی ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجائی تو ہر جگہ رجیم تبدیل ہوا تو ایسے تمام ممالک اب کسی طور ملک کہلانے کے قابل نہیں رہے ۔ ایک عرصہ سے خطے کے سارے ممالک اسرائیل کے سامنے سرنگوں تھے ۔ ایران آخری رُکاوٹ تھی ، جسے دور کرنا ضروری تھا ، تاکہ گریٹر اسرائیل کا خواب پورا ہو سکے ۔ 7 اکتوبر 2020 کو جب حماس کے ملٹری ونگ القسام بریگیڈ نے اسرائیل پر حملہ کیا تو ایک عالم ورطہ حیرت میں ، لوگوں کے خدشات کہ اسرائیل نے غصہ میں سب ممالک کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا ہے ۔ 7 اکتوبر کا حملہ ایسے وقت ہوا جب صدر ٹرمپ کاابراہم اکارڈ جوبن پر تھا ۔ حملے نے معاہدہ تتربتر کرکے رکھ دیا ۔ وگرنہ اب تک پورا عالم اسلام ابراہم اکارڈ میں پرویا جا چکا ہوتا ، سارے اسلامی ممالک اسرائیل کے ہاتھ بیعت کر چکے تھے یا کرنیوالے تھے ۔ آج القاسم بریگیڈ ، اسماعیل ہانیہ ، حسن نصر اللہ اور دیگر شہدا کو سلام پیش کرنا ہے کہ انکی شہادت نے رائیگاں نہیں جانا تھا ۔
حالیہ جنگ کا 20واں دن ، امریکہ اور اسرائیل نے جب حملہ کیا تو جنگ کا مرکزی خیال ’ ایران میں رجیم تبدیل ‘کرنا تھا ، فراموش ہو چکا ۔ اب ساری آہ و بکا آبنائے ہرمز کھلوانے پر ہے ۔ازراہ تفنن ، آبنائے ہرمز تو 28 فروری کو کھلی تھی ، تیل 72 ڈالر فی بیرل بکثرت دستیاب تھا ۔ آج آبنائے ہرمز بند ، آخری خبریں آنے تک تیل 107 ڈالرز فی بیرل ہو چکا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کاتاحدِ نگاہ کھلنے کا کوئی امکان نہیں ۔ دو رائے نہیں کہ امریکی ماہرین جنگی امور کو بخوبی اندازہ ہوگا کہ اِدھر امریکہ نے حملہ کرنا تھا اُدھر آبنائے ہرمز بند ہو جاتی ۔ امریکہ کو اسکا بھی بخوبی اندازہ ہوگا ، خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں سمیت خلیجی ممالک کے طول و عرض میں امریکی اثاثہ جات اور امریکی شہری ایرانی میزائلوں کی زد میں ہونگے ۔ تیقن اتنا کہ چونکہ جنگ دو دن کی رہنی تھی اور رجیم کی تبدیلی حتمی رہنی تھی ۔ بعد میں جیسے ہی نئی حکومت قائم ہوتی تو آبنائے ہرمز بھی کھل جاتی مع خلیجی ممالک کے اڈوں پر حملے بھی بند ہو جاتے ۔ پہلے ہلے میں قیادت کا کام تمام کر دیا تو وہم و گمان میں نہ تھا کہUnity Of Command کی غیرموجودگی میں ، آسمانوں سے برستی آگ میں Unity OF Effort اپنا رنگ جمائے گی اور دشمن کو ناکوں چنے چبوائے گی ۔
19واں دن ، آبنائے ہرمز بند ہے ، کھلوانے کیلئے ذرہ برابر بھی ایرانی اثاثہ جات پر حملہ کیا یا زور زبردستی آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی کوشش کی گئی تو امریکیوں نے تلا جانا ہے ۔ آبنائے ہرمز ہرگز بند نہیں بلکہ ایران کے کنٹرول میں ہے ۔ ایران کا اجازت نامہ چاہیے، چینی کرنسی میں تجارت کرنی ہوگی تو اجازت نامہ ملے گا ۔ یقینا ًشہادتوں کی تکلیف اور نقصان اپنی جگہ موجود مگر جنگ میں امریکہ کو بے بس کر دینے میں ایک گُونہ آسودگی نے غم کو کم کر رکھا ہے ۔ اسرائیل کا دفاعی نظام آئرن ڈوم جسکا انحصار David Sling ، Arrow-3 ، Thaad جیسے Interceptors پر تھا ، انکا ذخیرہ ختم ہونے کو ہے ۔ اسرائیلی ذرائع نے ذخیرہ کی حالت Critical بتائی ہے ۔ جبکہ ایران کا بار بار کہنا کہ ہم اگلے ایک سال تک جنگ جاری رکھنے کی پوزیشن میں ہیں ، یعنی کہ آبنائے ہرمز ایک سال تک بند رکھیں گے۔ خلیج فارس ، خلیج عمان پر بھی مکمل ایرانی کنٹرول ہے ، امریکی بحری بیڑے کوسوں دور بھاگنے پر مجبور ہو گئے ۔ آخری بڑا معرکہ جو چند دنوں میں متوقع ہے۔ امریکی بحری بیڑہ USS-TRIPOLI 5 ہزار فوجی اور کئی لڑاکا بمبار طیاروں کو لئے آراستہ پراستہ خلیج فارس داخل ہوا چاہتا ہے ۔
خیال ہے کہ امریکہ امارات کی جانب سے جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے گا ۔ جزیرہ خارگ سے ایران کا90فیصد تیل برآمد ہوتا ہے ۔ بالفرض محال امریکہ یہاں قبضہ جما لیتا ہے تو قطع نظر کہ ایران کے پاس تمام خلیجی ممالک کی تیل تنصیبات اور ذخائر کو نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے ، ایران کا سخت ردعمل ہوگا ؟ جزیرہ خارگ سے آبنائے ہرمز 480کلومیٹر دور ، اگر امریکہ بیٹھ بھی جائے تو آبنائے ہرمز کو کیسے کھلوائے گا ؟ 1983ء میںبیروت کا واقعہ نہیں بھولنا کہ جب ایک دھماکے نے 240 میرین کو اُڑاد یا تھا۔ اگر آبنائے ہرمز اگلے 4 ہفتے بند رہتی ہے اور جنگ Escalate کرتی ہے تو بحیرہ احمر کا نیا دردِ سر ، یمن اور جبوتی کے درمیان باب المندیب بھی بند ہو جائیگا ، اسکے لئے حوثی کافی ہیں ۔ ایسے میں پوری دنیا اقتصادی تباہی کے عمیق گڑھے میں اوندھی پڑی ہوگی ۔ چین اور روس کی چاندی کہ’ دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ ‘ بیٹھے بٹھائے لاٹری ، بلاشرکت غیرے پوری دنیا میں اپنا نظام متعارف کروانا ہے ۔ ایران کے میزائلوں کی امریکہ اسرائیل پر برتری چین اور روس کی مرہون منت ہے ۔ میزائلوں کا تاک تاک کر نشانے بناتا کہ چین کا BeiDou System (BDS) زیرِ استعمال ہے ۔ چنانچہ USS جیرالڈ فورڈ زخمی حالت میں راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہوا ۔ پرنس سلطان ایئر بیس سعودی عریبہ میں کھڑے کھڑے امریکی جہاز تباہ کر دیئے گئے تو سب چین کی انٹیلی جنس کی مرہون منت ہیں۔
امریکہ اپنے دونوں پاؤں پر کلہاڑا چلا چکا ہے ، جنگ ہار چکا ہے جبکہ ایران جنگ جیت چکا ہے ۔ چین اور روس دونوں کی دسوں گھی میں ، بغیر محنت کے نیو ورلڈ آرڈر انکے مطابق ترتیب پانے کو ہے ۔ جنگ امریکہ نے شروع کی ، اب بند امریکہ کرے مگر ایران کی شرائط پر ۔ ایران کو مستقل حل چاہیے جنگ بندی نہیں ، امریکہ کومشرق وسطیٰ کے تمام جنگی اڈے بند کرنے ہونگے ۔ ایران کو تاوانِ جنگ ادا کرنا ہوگا۔