• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پڑھے لکھےاحباب اصرار کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو توسیع شدہ میکانکی ذہانت کہا جائے کہ اس نے تعلیم کے ساتھ زراعت،طب اور انجینئرنگ میں بھی انقلاب برپا کر دیا ہے مگر اس کی وجہ سےالجھاوے بھی بڑھ گئے ہیں کہ سوشل میڈیا پر نیتن یاہو کی موت پر اس کی بیوہ کو اس طرح سے روتے دکھایا گیا کہ میرا جی چاہا کہ میں خاتونِ محترم کو دلاسہ دوں اور مبشر زیدی یا عارف انیس یا رئوف کلاسرا سے پوچھوں کہ نیتن یاہو کے کتنے بچے ہیں؟ اور اگر وہ اردو پڑھ سکتے ہیں تو انہیں کچھ کتابیںسعادت حسن منٹو ، غلام عباس یا حسن منظر کی بھیجی جا سکتی ہیں؟گویا اسی نامراد توسیع شدہ ذہانت نے خبروں اور تصویروں کو بھی ناقابلِ اعتبار بنا دیا ہے۔ وہ افغانستان جس کے بارے میں بھارت خود دعویٰ کرتا ہے کہ آج وہ ہماری ’مدد‘ سے پاکستان میں خودکُش بمبار بھیج رہا ہے،کوئٹہ ہی نہیں پنڈی،اسلام آباد پر ڈرون پھینک رہا ہے،وہاں عید کا چاند سعودی عرب سے بھی پہلے نظر آ گیا ہے اور اس کا اعلان انہوں نےسپریم کورٹ سے کرایا ہے تاکہ ان کے طے کردہ طریقے یا منظور شدہ مسجدوں میں نمازِ عید ادا نہ کرنے والوں کو توہینِ عدالت کی بھی سزا دی جا سکے۔ کابل کے بارے میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن بدقسمتی یا خوش قسمتی سے میں نے افغانستان نہیں دیکھا اسلئے نہیں جانتا کہ آج اور کل لوگ بینک منیجروں کی نئے کرنسی نوٹوں کیلئے جس طرح خوشامد کریں گے اور وہ بعض منیجر بڑے بڑے لوگوں کو کڑکڑاتےکرنسی نوٹ پیش کرنےکیلئے شاید بلیک مارکیٹ سے یہ نوٹ خرید رہے ہوں گے،افغانستان میں اس سلسلے میں کیا ہورہا ہوگا؟ میں نے کوئٹہ اور چمن کے فٹ پاتھوں پر کئی عشرے پہلے دنیا جہان کے کرنسی نوٹ نسوار کی طرح بآسانی بِکتے دیکھے تھے۔

شاید آپ کو یاد ہو کہ بی بی نظیربھٹو کے حلیف تھے ایک مذہبی سیاستدان اورانہوں نے کابینہ کی میٹنگ میں کہا کہ ہماری پارٹی کے کارکن ڈیرہ اسمعیل خان میں شادی بیاہ کے موقع پر نئے کرنسی نوٹوں کے ہار بناتے ہیں اس لئے اسٹیٹ بینک کو ہدایت کریں کہ ہمیں ایک کروڑ روپے کے نئے نوٹ فراہم کئے جائیں۔چنانچہ وزیر اعظم کی ہدایت پر ایسا کر دیا گیا مگر فرمائش ہر کابینہ اجلاس میں بڑھتی گئی ،جس پر جلال میں آکے بی بی کے لاڈلےپشتون وزیرِ داخلہ ریٹائرڈ میجر جنرل نصیر اللہ بابر نے کہا’’ بی بی! سٹیٹ بینک کی چابیاں ہی ان کے حوالے کردیں،یہ وہاں جا کے کرنسی نوٹ نکال لایا کریں‘‘۔ پاکستان میں جب کرپشن نے فروغ پانا شروع کیاتو بعض بے وقوف کرسی نشینوں کے بغلول قسم کے بیٹوں کی سہرا بندی میں ان نوٹوں کی مالیت میں اضافہ ہونے لگا جیسے موتئے کے ہار دو تین لڑے ہوئے ویسے کرنسی نوٹوں کے ہار بھی دوہرے اور تہرے ہوتے گئے یہی نہیں وہ ہار جس میںانچاس یاننانوے دس دس کے نوٹ ہوتے تھے پچاسواں یا سوواں نوٹ ایک سو کا ہوتا انہی میں پانچ پانچ سو کیا ہزار ہزار کے نوٹ پروئے جانے لگے اور مرکز میں پانچ ہزار کا نوٹ لشکارے مارتا۔

مجھے یاد ہے میرے ایک مرحوم کلاس فیلو عبدالروف شیخ کی شادی تھی لاہور میں،ان کے ماموں سسر نے ان کے گلے میں ایک ایسا ہار ڈالا جس پر ان کے ایک دوست خ،ش کا جی للچایا تو انہوں نے گلے ملتے ہوئے دس روپے والا ایک نوٹ اتار لیا،جس پر شیخ صاحب نے بہت اونچی آواز میں کہا میں ایسا مذاق پسند نہیں کرتا،یہ نوٹ واپس کردو۔ میں نے بعد میں رئوف شیخ مرحوم سے پوچھا تمہیں کوئی آواز آئی تھی؟ تو اس نے کہا کہ تم شیخوں کی جبلت سے واقف نہیں،یہ ہارذرا ہلکا ہو گیا تو مجھے پتہ چل گیا۔ لطف کی بات ہے کہ جس دوست نے یہ نوٹ کھسکانے کی کوشش کی تھی وہ بعد میں ریڈیو سے وابستہ ہوئے،باریش ہوئے،حج نشریات کے اسپیشلسٹ ہو گئے۔بہت اچھے شاعر تھے برسوں سے میری ملاقات نہیں ہوئی البتہ اصغر ندیم سید نے ان کے بیٹے کی شادی میں شرکت کی ہے مگر میں پوچھ نہیں سکا کہ کسی نے ان کے گلے میں کسی نے ایسا ہار ڈالا کہ نہیں؟

ایک وقت تھا کہ ایران میں بھی بھارت نےخیر سگالی کی پینگیں بڑھا لی تھیں تاہم اس وقت اسے جس طرح بے مہار امریکہ نے نشانہ بنا رکھا ہے اور خاص طور پر اسرائیل کی توسیع شدہ میکانکی ذہانت سے قیادت کی صف اول کو مٹانےکو اپنا ہدف بنایا ہے ،ایسے میں ترکیہ سے ڈاکٹر فرقان حمید خبر دیتے ہیں کہ صدر اردوان کوئی خفیہ ہتھیار ایران کی مدد کیلئے لانے والے ہیں،جب کہ کچھ نظریں شمالی کوریا کی گُل متھنی قیادت سے توقع رکھتی ہیں کہ وہ روس اور چین کے اتحاد سے کوئی ایسی دھمکی دیں گے کہ صدر ٹرمپ کے اوسان خطا ہو جائیں گے اور ان کے اتحادی ہی ساتھ نہیں چھوڑتے جائیں گے بلکہ ان کی اپنی ٹیم کے مزید اراکین مستعفی ہو جائیں گے۔ مستنصر حسین تارڑ کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرنے والےحافظ محمد صفوان چوہان سپین یعنی اندلس کی خوبصورت شہزادی سے توقع باندھے ہوئے ہیں وہی کچھ ایسا قدم اٹھائیں گی معصوم بچوں اور بچیوں کے سر سے ہلاکت کے بادل چھٹ جائیں گے۔تاہم ہمارے دو شاگردوں عبدالرئوف ہسپانوی کرکٹر اور نذر حسین بھٹی نے احباب سے اپیل کی ہے کہ وہ اگر ایران کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو وہ زیادہ سے زیادہ ایرانی ریال خریدیں اور پھر انہیں خرچ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں۔میں نے اسلام آباد میں ایک زیادہ سمجھ دار عمران یوسف سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ایران نے تو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں سے ڈالر یا پاونڈ کی جگہ چینی کرنسی یوآن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ایسے میں میں نے کشور ناہید کی شاعری کو اپنے تازہ ترین مقالے کا موضوع بنانے والی ڈاکٹر عظمیٰ فرمان فتح پوری سے پوچھا تو انہوں نے کشور کا ایک شعر سنا دیا :

مصلحت شناس لوگ،ہر گلی کے موڑ پر

دھول کی طرح سے دوستی اتارتے رہے

تازہ ترین