ایران میں فارسی نئے سال ’نوروز‘ کی تقریبات اس سال جنگی حالات میں منائی جا رہی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 1980ء کی دہائی کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ جب ایران حالتِ جنگ میں نوروز منا رہا ہے، اس سے قبل ایران نے عراق کے ساتھ 8 سالہ جنگ کے دوران ایسے حالات دیکھے تھے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے باوجود تہران اور دیگر شہروں میں شہریوں نے بازاروں کا رُخ کیا، پھول خریدے اور ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارکباد دی۔
ایرانی کیلنڈر کے مطابق نئے سال کا آغاز بہار کے موسم سے جمعے کو ہوا۔
نئے سال کے آغاز کے فوراً بعد تہران میں فضائی دفاعی نظام کی فائرنگ سنی گئی جسے بعض شہریوں نے جشن کا حصہ قرار دیا۔
’الجزیرہ‘ سے بات کرتے ہوئے ایک ایرانی خاتون شہری نے بتایا کہ بمباری کے باعث لوگ گھروں تک محدود ہیں لیکن نوروز امید اور نئی شروعات کی علامت ہے اور عوام اسے ہر حال میں مناتے رہیں گے۔