زیادہ پرانی بات نہیں ۔ نومبر 2025ء میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی واشنگٹن میں منعقد ہونیوالی ایک کا نفرنس کے کلیدی مقرر کے طور پر میں نے وہاں عرض کیا کہ دنیاروز بروز غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے ہم تیسری عالمی جنگ سے بھی دوچار ہو سکتے ہیں۔ اس کا نفرنس کے لنچ بریک میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے اسکول آف فارن سروس کے ایک پروفیسر نے مجھ سے پوچھا کہ پاکستان کی حکومت نے تو صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کیا ہے اور آپ کے وزیر اعظم شہباز شریف کا خیال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کو ایک ایٹمی جنگ سےبچایا ہے پھر آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی وجہ سے دنیا تیسری عالمی جنگ کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے؟ میں نے جواب میں کہا کہ ٹرمپ نے غزہ میں اسرائیلی ظلم و ستم کو روکنے کی بجائے نیتن یاہو کی حوصلہ افزائی کی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایک دوسرے کے پارٹنر ہیں اور ملکر ایران پر ایک اورحملہ کریں گے ، یہ حملہ پورے مشرق ِوسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ۔ اس پروفیسر نے بڑی سنجیدگی سے کہا کہ ٹرمپ امریکا کے صدر ضرور ہیں لیکن وہ کانگریس کی مرضی کے بغیر امریکا کو کسی بڑی جنگ میں نہیں دھکیل سکتے ۔ یہ سُن کر میں نے نفی میں سر ہلایا اور پروفیسر صاحب سے کہا کہ ٹرمپ نے دوسرے دور صدارت میں جو ٹیم بنائی ہے وہ جنگی جنونیوں پر مشتمل ہے اور یہ ٹیم کانگریس سے پوچھے بغیر کوئی نہ کوئی بڑی جنگ ضرور چھیڑے گی ۔ پروفیسرنے پوچھا کہ ٹرمپ کی ٹیم میں سے آپ کسے جنگی جنونی سمجھتے ہیں ؟ میں نے فوری طور پر امریکا کے وزیر دفاع پیٹر ہیگ سیتھ اور نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائر یکٹر تلسی گبارڈ کا نام لیا اور کہا کہ دونوں سابقہ فوجی ہیں ۔ آپکا وزیر دفاع مسجد اقصیٰ کو گرا کر وہاں یہودی عبادت گاہ قائم کرنا چاہتا ہے اور آپکی انٹیلی جینس چیف ایک ہندو انتہا پسندہے جو مسلمانوں سے شدید نفرت کرتی ہے اور اُسکی نفرت کوئی ڈھکی چھپی بھی نہیں ہے اسی لئے کئی امریکی ہندو بھی اسے پسند نہیں کرتے۔ ہماری یہ گفتگو رات کے ڈنر میں بھی جاری رہی اور اس گفتگو میں مزید اساتذہ اور طلبہ وطالبات بھی شامل ہو گئے۔ میرے امریکی میزبان پیٹر ہیگ سیتھ کے بارے میں تو مجھ سے اتفاق کر رہے تھے لیکن تلسی گبارڈ کے بارے میں اُنکا خیال تھا کہ وہ ہندو انتہا پسند نہیں ہیں۔ میں نے تلسی گبارڈکے بی جے پی اور آر ایس ایس کیساتھ روابط کی تفصیلات بیان کیں تو میرے میزبان خاموش ہو گئے ۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس بارے میں اُنکے پاس زیادہ معلومات نہیں لیکن انہوں نے مزید گفتگو کیلئے اگلے دن مجھے اسکول آف فارن سروس میں مدعو کر لیا۔ یہ امریکی جمہوریت کی خوبصورتی تھی۔ میں نے امریکا کی ایک معروف یونیورسٹی کے اسٹیج پرامریکی صدر کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیا تو یونیورسٹی کےاساتذہ نے مجھ پر امریکا دشمنی کا الزام لگانے کی بجائے میرا موقف سمجھنے کی کوشش کی۔ میں نے اپنے میزبانوں کو بتایا کہ امریکا میں ٹرمپ پر تنقید کرنا آسان ہے لیکن پاکستان میں مشکل ہو گیاہے کیونکہ ہمارے حکمران سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ بھارتی وزیر اعظم مودی کا مذاق اُڑاتا رہتا ہے اس لئے وہ پاکستان کا دوست ہے لیکن میں تلسی گبارڈ جیسے لوگوں کی وجہ سے ٹرمپ پر اعتماد نہیں کرتا کیونکہ تلسی گبارڈ کو امریکی صحافی پیٹر فریڈریچ ’’آر ایس ایس کی رانی‘‘ قرار دے چکے ہیں۔ جنوری 2026 ء میں امریکا نے ونیزویلا پر حملہ کر کے اُنکے صدر کو گرفتار کیا تو میں نے جیونیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں کہا تھا کہ امریکا ایسا ہی حملہ ایران پر بھی کرئیگاجسکے کئی مقاصد میں سے ایک ایران میں تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا بھی ہوگا۔ایران پر حملے کی یہ خبر مجھے کسی خفیہ ذریعے سے بالکل نہیں ملی تھی بلکہ یہ خبر نومبر 2025 میں جاری ہونیوالی ٹرمپ کی نیشنل سکیورٹی اسٹرٹیجی میں بھی موجود تھی جو ایک پبلک ڈاکیومنٹ تھی۔ میں نے صرف اس ڈاکیومنٹ کو غور سے پڑھنے کی زحمت کی تھی ۔ اس میں یہ تو نہیں کہا گیا تھا کہ امریکا ہر صورت میں ایران پر حملہ کرئیگالیکن یہ صاف صاف لکھا تھا کہ امریکا اپنے دشمنوں سے توانائی کے ذخائر چھین لے گا ظاہر ہے یہ کام پر امن انداز میں تو نہیں ہو سکتا اس کیلئے واحد راستہ جنگ ہے اور ٹرمپ نے اپنی باقاعدہ اعلان شدہ اسٹرٹیجی کے عین مطابق کانگریس سے پوچھے بغیر مارچ 2026ء میں اسرائیل کیساتھ ملکر ایران پر حملہ کردیا - ایران کیخلاف جنگ کی آگ اب پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکی ہے ۔اسرائیل کی طرف سے مسجد اقصٰی کو شہید کر کے الزام ایران پر لگانے کا خدشہ بھی کوئی راز نہیں رہا۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو مسلم ممالک کو ایران کیخلاف جنگ میں شامل کرنے کیلئےعیارانہ چالیں چل رہے ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبٰی خامنہ ای نے ترکی اورعمان پر حملوں کو فالس فلیگ آپریشن قرار دیا ہے ۔ اسرائیل ایران کے بعد ترکی کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ ایران کیخلاف جنگ شروع ہونے کے بعد یہ خدشہ بھی سامنے آیا کہ ایران کے بعد پاکستان کی باری بھی آسکتی ہے ۔ پاکستان کے ارباب اختیار نے اس خدشے کو بڑے اعتماد سے مسترد کر دیا تھا اور کہا تھاکہ پاکستان اور ایران میں بہت فرق ہے ۔ پاکستان کی حکمران اشرافیہ ابھی تک اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ ہم نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کیا ہے لہٰذا ٹرمپ پاکستان کو کبھی میلی آنکھ سے نہیں دیکھے گا ۔ 18 مارچ کو امریکی سینیٹ کی نیشنل انٹیلی جینس کمیٹی کے اجلاس میں بیان دیتے ہوئے تلسی گبارڈ نے پاکستان کے میزائل پروگرام کو امریکا کیلئے خطرہ قرار دیدیا - تلسی گبارڈ نے اپنے بیان میں بھارت کے میزائل پروگرام کا کوئی ذکر نہیں کیا جسکی رینج پاکستان کے میزائلوں سے دوگنا زیادہ ہے ۔ کیا تلسی گبارڈ نے یہ بیان ہمارے حکمرانوں کے محبوب ٹرمپ کی مرضی کیخلاف دیدیا ہے ؟ صاف نظر آ رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کو ایران کیخلاف استعمال کرنا چاہتی ہے اور دباؤ ڈالنے کیلئے تلسی گبارڈ سے پاکستان کیخلاف بیان دلوایا گیا ہے ۔ یہ خاتون 2012 میں پہلی دفعہ کانگریس کی رکن بنی ۔ موصوفہ نے سیاست کا آغاز ڈیموکریٹک پارٹی سے شروع کیا اور ٹرمپ کی بہت بڑی ناقد ہوا کرتی تھیں ۔ امریکی صحافی پیٹر فریڈریچ نے بھارت جا کر تلسی کے آر ایس ایس کیساتھ تعلقات پر تحقیق کی تو انہیں پتہ چلا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے حامی الیکشن میں تلسی کو بھاری فنڈز دیتے ہیں ۔ اسکی شادی میں آر ایس ایس کے ترجمان رام مادھو نے شرکت کی۔ آر ایس ایس نے تلسی کو امریکا کا صدارتی الیکشن لڑنے پر بھی مائل کیا لیکن ڈیموکریٹک پارٹی کے پلیٹ فارم سے یہ مشکل تھا ۔ 2020 ء میں تلسی نے ڈیموکریٹک پارٹی چھوڑ دی اور صدارتی امیدوار بن گئیں ۔ بات نہ بنی تو 2022 ء میں ری پبلکن پارٹی میں آگئیں ۔ امریکی سینیٹ میں نیشنل انٹیلی جینس کے ڈائریکٹر کے طور پر اُنکی تقرری کے حق میں 52 اور مخالفت میں 48 ووٹ آئے تھے ۔ دسمبر 2025 ء میں اُنہوں نے الزام لگایا تھا کہ نیوجرسی کے مسلمان امریکا میں شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں ۔ پاکستان کیخلاف تلسی گبارڈکا حالیہ بیان ٹرمپ انتظامیہ میں موجود اُس مکتب فکرکی نمائندگی کرتا ہے جو کسی بھی مسلمان ملک کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں دیکھنا چاہتے۔ایران کے خلاف امریکا کی جنگ نے کئی صدیوں کے بعد مسلمانوں کے شیعہ سنی اختلاف کو پیچھے دھکیل دیا ہے ۔ یہ اختلاف مسلم ممالک کی اشرافیہ تک محدود ہو چکاہے جبکہ عوام شیعہ سنی کی تفریق سے نکل کر صرف مسلمان بن چکے ہیں ۔ یورپ بھی ٹرمپ کے ساتھ نہیں کھڑا لیکن ٹرمپ صلیبی جنگ کے نام پر یورپ کو ساتھ ملانا چاہتا ہے۔فرقہ وارانہ اختلاف کی آگ کو دوبارہ بھڑکانے کیلئے مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش جاری ہے۔’’ آر ایس ایس کی رانی‘‘ پاکستان کو ہر قیمت پر ایران کیخلاف استعمال کرنا چا ہتی ہے ۔ رانی صاحبہ سے ہوشیار رہیں۔انکی آواز میں صرف ٹرمپ نہیں مودی بھی بولتا ہے۔