• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایرانی وزارت خارجہ کی امریکا ایران کشیدگی کم کروانے کی کوششوں کی تصدیق

فوٹو: ایرانی میڈیا
فوٹو: ایرانی میڈیا 

ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے تہران کی وزارت خارجہ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کروانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے بعض عہدے داروں نے ایران امریکا مذاکرات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ٹرمپ کا بیان صرف تیل کی قیمتوں میں کمی کرنے اور ممکنہ مزید حملوں کے لیے وقت لینے کی خاطر جاری کیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا دونوں ڈیل کرنا چاہتے ہیں، اسرائیل سے بات ہوگئی ہے، وہ تازہ پیشرفت پر خوش ہے۔

فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے خود مذاکرات کے لیے رابطہ کیا تھا، ایران کو اس کے جہازوں پر بھرا تیل فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ چیزیں بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہی ہیں، امریکی وفد اور ایرانی نمائندوں کے درمیان انتہائی گہری اور تفصیلی بات چیت ہوئی، امریکی وفد میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے، ایران شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، معاہدہ آئندہ 5 دن یا اس سے بھی پہلے ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر نے کہا تھا کہ امید ہے کہ ایران کے معاملے کو حل کرلیا جائے گا۔ ایران 47 سال سے خطرہ تھا، امریکا ایران مذاکرات میں دونوں ملک کئی نکات پر راضی ہیں، 15 نکات پر ایران سے بات چیت چل رہی ہے، نکات میں سرفہرست ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید