انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کا کہنا ہے کہ دنیا کو اس وقت تیل کے تاریخی بحران کا سامنا ہے۔
ایجنسی کے مطابق ایسا بحران نہ دنیا نے نہ صرف 1970 کی دہائی میں آئے تیل کے دو بحرانوں میں دیکھا، نہ 2022 میں روس یوکرین جنگ کے بعد کا گیس کا بحران اتنی شدت کا تھا۔
آئی ای اے نے خبردار کیا کہ محفوظ ذخائر سے تیل کی ریلیز مسئلے کا حل نہیں، مسئلہ آبنائے ہُرمُز کی بندش کے خاتمے سے ہی حل ہوگا۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا ہے کہ دنیا کو اس وقت 70 کی دہائی سے بڑے توانائی بحران کا سامنا ہے۔ 70 کی دہائی میں دنیا نے 1973 اور 1979 میں تیل کا بحران دیکھا تھا، پھر 2022 میں روس اور یوکرین کی جنگ شروع ہونے پر گیس کا عالمی بحران سامنے آیا۔
آسٹریلیا میں بات کرتے ہوئے آئی ای اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا کہ حالیہ توانائی بحران دنیا کے کسی بھی پچھلے بحران سے بڑا بحران ہے۔
آبنائے ہُرمُز کی بندش اور تیل بردار جہازوں پر حملوں نے عالمی تیل سپلائی کو 11 ملین بیرل یومیہ تک گھٹا دیا ہے۔ اتنی کمی 70 کی دہائی کے بحران میں بھی نہیں ہوئی تھی۔ ایل این جی سپلائی 140 ارب کیوبک میٹر کم ہوئی ہے، جبکہ روس یوکرین جنگ پر یہ کمی 75 ارب کیوبک میٹرز رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ ایران، اسرائیل امریکا تنازعے میں اب تک 9 ملکوں کے 40 توانائی مراکز تباہ ہوچکے ہیں۔ دنیا کی معیشت کو بدترین خطرے کا سامنا ہے۔ بدقسمتی سے ابتدا میں اس بحران کو بہتر طور پر سمجھا ہی نہیں گیا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس موضوع پر عوام میں آکر بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فاتح بیرول نے بتایا کہ وہ مختلف ملکوں سے ان کے محفوظ ذخائر سے تیل کی ریلیز کی بات کے لیے رابطوں میں ہیں، لیکن یہ ریلیز مسئلے کا حل نہیں، مسئلہ آبنائے ہُرمُز کی بندش کے خاتمے کے ساتھ ہی حل ہوگا۔
28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملے سے شروع ہونے والی جنگ ہونے کے بعد سے اب تک تیل کی قیمتیں 50 فیصد سے زائد ہوچکی ہیں۔