• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کون؟ تفصیل سامنے آگئی

تصویر، سوشل میڈیا
تصویر، سوشل میڈیا

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف حالیہ جنگ کے خاتمے کے امکانات پر امریکا سے مذاکرات کرنے والی مرکزی شخصیت کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔

ایران کے شمال مشرقی قصبے طرقبہ میں 1961ء میں پیدا ہونے والے قالیباف کی نوجوانی کا دور وہی تھا، جب ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کا دور دورہ تھا۔

اوائل عمری میں انہوں نے ہم جماعتوں سے مل کر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن بنائی جو آگے چل کر قومی تنظیم بنی۔

18 برس کی عمر میں پاسداران انقلاب میں شمولیت اختیار کی، 1980ء کی ایران عراق جنگ میں وہ پہلے بریگیڈیئر اور پھر ڈویژن کمانڈر بنے۔

1982 میں انہوں نے صدام حسین کی فورسز سے خرم شہر کو واپس لینے کی کارروائی میں اہم کردار ادا کیا، 1997 میں قالیباف پاسداران انقلاب کی ایئرواسپیس فورس کے کمانڈر مقرر ہوئے۔

پاسداران کی سرگرمیوں کے ساتھ انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی، تہران یونیورسٹی سے پولیٹیکل جیوگرافی میں بیچلرز ڈگری لی۔

اس کے بعد انہوں نے اسلامک آزاد یونیورسٹی سے ہیومن جیوگرافی میں ماسٹرز کیا، پھر تربیت مدارس یونیورسٹی سے پولیٹیکل جیوگرافی میں ڈاکٹریٹ کیا۔

سخت گیر موقف کی شہرت رکھنے والے محمد باقر قالیباف ایرانی فضائیہ کے سابق پائلٹ ہیں۔ تہران کے میئر اور پولیس چیف سمیت کئی اہم حکومتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور اب 2020ء سے وہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ہیں،ان سے پہلے علی لاریجانی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہ چکے ہیں۔

محمد باقر قالیباف ایک سے زائد مواقع پر ایران کے صدارتی امیدوار بھی رہ چکے ہیں، 2024 ءکے صدارتی الیکشن میں وہ مسعود پزشکیان اور سعید جلیلی کے بعد تیسرے نمبر پر رہے تھے۔

ہر چند کہ امریکی میڈیا سے یہ اشارہ دیا جارہا ہے کہ تہران میں قالیباف ہی وہ شخصیت ہیں جن سے امریکا بات کرنا چاہ رہا ہے، لیکن خود قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید