• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کیلئے باقر قالیباف اہم کردار کیوں؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف ایران میں ایک اہم کردار ہیں۔

امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ محمد باقر قالیباف بالکل اسی طرح ایران کے اگلے صدر بھی ہو سکتے ہیں جیسے امریکا نے نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے بعد وینزویلا میں ڈیلسی روڈریگز کو صدر بنایا۔

دوسری جانب کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ محمد باقر قالیباف کو اہمیت دینا، ایران جنگ کی وجہ سے امریکا پر آنے والے دباؤ اور عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے مہلت حاصل کرنے کا ایک طریقہ بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ اگر ایرانی اسپیکر پارلیمنٹ کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو وہ امریکا سے مذاکرات کے لیے کسی صورت بھی صحیح انتخاب نہیں ہو سکتے۔

محمد باقر قالیباف نے خود بھی سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں امریکا سے مذکرات ہونے کے بارے میں گردش کرتی خبروں کی تردید کی ہے۔

فوٹو بشکریہ ایکس
فوٹو بشکریہ ایکس

اُنہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں اور جعلی خبروں کا استعمال مالیاتی اور تیل کی منڈیوں میں ہیرا پھیری کرنے کے لیے اور اس دلدل سے بچنے کے لیے کیا جا رہا ہے جس میں امریکا اور اسرائیل پھنس گئے ہیں۔

واضح رہے کہ سخت گیر مؤقف کی شہرت رکھنے والے محمد باقر قالیباف ایرانی فضائیہ کے سابق پائلٹ ہیں۔

وہ تہران کے میئر اور پولیس چیف سمیت کئی اہم حکومتی عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں اور اب 2020ء سے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ہیں۔

علاوہ ازیں محمد باقر قالیباف ایک سے زائد مواقع پر ایران کے صدارتی امیدوار بھی رہ چکے ہیں، 2024ء کے صدارتی الیکشن میں وہ مسعود پزشکیان اور سعید جلیلی کے بعد تیسرے نمبر پر رہے تھے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید