• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

24 فروری 2026 وائٹ ہاؤس سیچویشن روم ! امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، مارکو روبیو وزیرخارجہ و قومی سلامتی مشیر ، وزیر جنگ پیٹ ہیگ سیتھ ، جنرل ڈئن کین ( CJCS ) ، جنرل ریٹ کلف ڈائریکٹر جنرل CIA ، چاروں سروسز چیفس ، چند دیگر اعلیٰ حکام سرجوڑے ایران پر حملے کی جزئیات طے کر رہے ہیں ۔ صدر ٹرمپ ، مارکو روبیو اور پیٹ ہیگ سیتھ کے علاوہ تمام جرنیلوں کے تحفظات کہ اگر جنگ طول پکڑ گئی تو امریکہ کی مشکلات بڑھ جائیں گی ۔ اگلے دن واشنگٹن پوسٹ میں خبر لیک ہوئی کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈئن کین نے واشگاف الفاظ میں صدر ٹرمپ کو بتایا کہ ایران میں اگر لڑائی لمبی ہوگئی تو ہمیں لامحدود مسائل کا سامنا ہوگا۔

صدر ٹرمپ چند دن پہلے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو سے بریفنگ لے چکے تھے جو موساد کے سربراہ DAVID BARNEA نے اپنے وزیراعظم کو دی تھی ، ’’ہمارا ہوم ورک مکمل ہے ، جیسے ہی امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی قیادت بشمول سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو شہید کیا ، غول در غول ایرانی اُمڈ آئیں گے اور زورزبردستی حکومت سنبھال لیں گے ، جو امریکہ اسرائیل دوست ہوگی‘‘یہ ایک نکتہ جنگ کا بنیادی OBJECTIVE تھا ۔چنانچہ وائٹ ہاؤس سچویشن روم میٹنگ میںجنرل ڈئن کین کی سنی اَن سنی کر دی گئی ۔ 28فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل نے مجرمانہ حملہ کیا تو ہدف ایرانی سیاسی ، فوجی ، سائنسی قیادت کو تہہ تیغ کرکے ملک پر قبضہ کرنا تھا۔

پچھلے کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ جب کبھی آبنائے ہرمز کی بندش اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا ذکر اذکار آیا تو حتمی جواب کہ چونکہ جنگ 2یا 3 دن کے اندر ثمر آور ہو جائیگی ، ایران میں وینزویلا طرز پر حکومت قائم ہو جائیگی ۔ 28 فروری کو آبنائے ہرمز کھلی تھی ، مسئلہ فقط رجیم چینج تھا ۔ آج 26 مارچ رجیم چینج پس پشت ، جنگ بندی کا دارومدار آبنائے ہرمز کھلنے پر ہے۔

امریکہ اور اسرائیل نے جب ایرانی قیادت کو Decapitate کیا تو چشم تصور میں نظام مفلوج ، امابعد حکومت مخالف مایوس عوام نے سڑکوں پرہونا تھا ، ایوانوں پر قبضہ اور یوں امریکہ و اسرائیل کی مرضی کی حکومت قائم ہونی تھی ۔

آج 27 دن سے آبنائے ہرمز بند ،پوری دنیا خوف اور عدم تحفظ کی گرفت میں ، صدر ٹرمپ کےآبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے تمام جتن، تمام دھمکیاں سعی لاحاصل ثابت ہوئیں ۔ نہ تو اب رجیم چینج زیر بحث اور نہ ہی یورینیم افزودگی یا میزائل پروگرام یا ایران پر پابندیوں کا کہیں ذکر ہے ۔ بلکہ ایران آج 28 فروری سے پہلے دُگنا تیل بیچ رہا ہے ۔ دوسری طرف آج پورا اسرائیل آگ کی لپیٹ میں ، خلیجی ممالک اور اُردن میں 11امریکی فوجی اڈے عملاً تباہ ناقابل استعمال ، تین بڑے رڈار ، USS رابرٹ پیری جہاز ، اربوں ڈالرز کے اسلحہ سمیت ڈبو دیا گیا ۔

انواع واقسام کے انٹرسیپٹر کا ذخیرہ خرچ ہو چکا ( اسرائیل نہتا ہو گیا ) ، تازہ بہ تازہ 300 ملین ڈالرز کا AWACS طیارہ گر چکا ۔ بالفرض محال اگر صدر ٹرمپ گزشتہ سوموار یا ہفتہ کو ایران پر آگ برساتے ہیں ، بجلی گھر وغیرہ تباہ کرتا ہے تو اسی دن اسی وقت خلیجی ممالک ، مشرق وسطیٰ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی سکت ایران میں بدرجہ اتم موجود ہے ۔ امریکہ روایتی جنگ کیلئے آیا ، ایران نے اسے کمال مہارت سے اعصاب ، معیشت اور وقت کی جنگ بنا ڈالا۔

امریکہ واضح طور پر بے بس ، جنگ عملاً ہار چکا ہے، باعزت واپسی کا امکان لاموجود ، نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن ۔ امریکہ اور اسرائیل جس جنگ کو دو دن میں ختم کرنے کے موڈ میں تھے ، ایران وہ جنگ دو سال کیلئے لڑنے کو تیار ہے ۔

امریکہ اور اسرائیل جو 30سال سے ایران فتح کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے اور چار دن کی تیاری پر اکتفا کر بیٹھے تھے ، خواب خرگوش ثابت ہوا ، ایران 30 سال سے اس دن کا منتظر تھا اور مہینوں جنگ جاری رکھنے کے حق میں ہے ۔ جس مہارت سے ایران نے اس جنگ کا CENTER OF GRAVITY بدلا ، روایتی عسکری تصادم کو محدود کرکے آناً فاناً ASYMMETRICAL وارفیئر میں تبدیل کیا ۔ صبر تحمل ، اسٹرٹیجک گہرائی ، غیرمعمولی جنگی حکمت عملی سے دنیا کو مبہوت کرکے رکھ دیا ہے ۔

وار آف ATTRITATION یعنی کہ تھکا دینے والی جنگ میں ڈھال چکا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی کل کی رپورٹ ’’ تازہ حملوں میں ایران نے خارگ جزیرے کے اردگرد اور مشرق وسطیٰ کے 11 امریکی اڈوں کو ہدف بنا کر تباہ کر دیا، کئی امریکی فوجی فرار ہو کر پناہ گاہوں میں چھپ گئے ۔ ایرانی حملوں میں 24 امریکی فوجی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں‘‘ ۔ امریکی میڈیا کےمطابق’’ اب تک 16امریکی طیارے تباہ ہو چکے ہیں اور خلیجی ممالک میں امریکی بینکوں اور تیل و گیس کے پلانٹس ویران پڑے ہیں ، عالمی تیل کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل اور گیس کی قیمت میں 26 فیصد اضافہ ہوا ۔ قطر نے خود کو کشیدگی سے الگ رکھا ہے اور تنازعے میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے ‘‘۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک اسکی شرائط پوری نہیں ہوں گی ، دفاع جاری رہے گا اور دشمن پر بھرپور ضرب لگتی رہے گی ۔ امریکہ نے 15 نکاتی تجاویز بھیجی ہیں ، لیکن ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے بغیر ہر قسم کے مذاکرات اور تجاویز کو مسترد کر چکا ہے ۔ ایران کیساتھ صلح کیلئے رکھی گئی 15 ڈیمانڈزکو ایران نے بہ یک جنبش قلم مسترد کر دیا ۔ ساری 15 ڈیمانڈز رَد کر دیں اور اپنی 5ڈیمانڈز پاکستان کے ذریعے امریکہ کو دی ہیں ۔

اگرچہ صدر ٹرمپ ایک ہفتے کے اندر ایران کے اردگرد امریکہ اور اسرائیل فوج کا اژدھام لگانے کو ہے مگر کسی سمت کا تعین ہے ہی نہیں ، کوئی حکمت عملی سامنے نہیں ہے ۔ بات اہم اور حتمی کہ اگر علی حسینی خامنہ ای شہید نہ ہوتے تو ایران شاید اس قدر متحد نہ ہوتا ۔ ایران کو معلوم ہے کہ جنگ اس کے حق میں ہے ، اگر موجودہ جنگ آگے بڑھے گی اور ESCALATION ہوئی تو امریکہ تباہ ہو گا ۔ آج بروز جمعہ جب صدر ٹرمپ کا الٹی میٹم ختم ہو جائےگا تو یہ بھی 48 گھنٹے والی گیدڑ بھبکی ہوگی۔

صدر ٹرمپ کو جنگ سے نکلنے کا راستہ اور ایران کو جنگ جاری رکھنے کا بہانہ چاہیے۔ صدر ٹرمپ کا مذاکرات پر اصرار جبکہ ایران کا مذاکرات سے انکار ہے ۔

ایران نے ہر محاذ پر خود کو مستحکم کر رکھا ہے، ایران نے دشمن کی مہنگی طاقتیں سستے داموں خرچ کروائیں اور خطے میں اپنی شاندار حکمت عملی سے عالمی طاقتوں کو حیران کر دیا ۔ جنگ تب تک جاری رہے گی جب تک امریکہ شکست تسلیم نہیں کر لیتا ۔ ایران کے پاس بہترین کارڈز ہیں اور وہ مضبوطی سے اپنی پوزیشن پر قائم ہے ، اگرچہ آج بھی ایک احمق آدمی کھیلن کو مانگے ایران۔

تازہ ترین