• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارے میڈیا پر ایران اور امریکہ جنگ سے بہت تکلیف دہ خبریں آ رہی ہیں،ایک طرف فارسی کے رجزیہ نوحےہیں دوسری طرف کہنے کو دوفرد ہیں امریکی صدر ٹرمپ اور ان کے لاڈلے اسرائیل کا شاطر نیتن یاہو کہ ایران کا ہر میزائل جو تل ابیب میں پھٹتا ہے وہ اشارہ عراق،شام،اردن یا کویت کی طرف کرتا ہے اور پھر نیم جان مسلم امہ ایک دوسرے پر پِل پڑتی ہے جنہیں کب سے تمسخر سے کہا جاتا ہے’اوہ آئی سی۔‘ واشنگٹن اور نیو یارک کے واقفانِ حال کہتے ہیں کہ اس ساری جنگ کا خرچ مع منافع مسلم امت اور خاص طور پر عرب ملک اٹھائیں گے۔بے شک سعودی عرب،متحدہ عرب امارات ،بحرین اور قطر کی نئی قیادت سے توقع رکھی جاتی ہے کہ جن دلچسپیوں میں وہ اربوں ڈالر شوقیہ خرچ کرتے تھے شاید یہ جنگ انہیں سیانا کردے کہ بتایا جا رہا ہے ، انکے پاس تیل کی دولت تو تھی ہی مگر سمندر کے پانی کو پینے کے پانی میں تبدیل کرنے کیلئے جو سرمایہ کاری انہوں نے کی تھی وہ خطرے میں ہے۔اپنے تحفظ کیلئے انہوں نے جو مہنگی ترین چھتری امریکہ سے خریدی تھی اس میں سوراخ دنیا کو دکھائی دے رہے ہیں اس لئے شاید کچھ عرب ملک یہ سوچنے لگیں کہ وہ ایران، انڈونیشیا،ترکیہ ،پاکستان اور ملائشیا سے بھی ایک ایک اضافی چھتری لے لیں۔ممکن ہے کہ اس موقع پر امریکی صدر بل کلنٹن کا ذکر کچھ لوگوں کو نامناسب لگے مگر وہ ترقی پسند ذہن رکھتے تھے،انہوں نے نیلسن منڈیلا،باکسر محمد علی کی عظمت کو سلام کیا اور ہمیں کارگل کے مِس ایڈونچر کے تکلیف دہ نتائج سے بچانے کی کوشش کی اور عربوں کو بھی جمہوری نظام یعنی مواخذے کے نظام پر قائل کرنے کی کوشش کی اور تو اور ان کی اہلیہ ہلیری بے شک ٹرمپ کے مقابلے پر انتخاب ہار گئیں مگر ان کی تقاریر یوٹیوب پر ہیں وہ جنگ باز اور ہلاکت آفریں ٹرمپ کے خطرے سے دنیا کو آگاہ کر گئیں۔ جب میرے جیسے لوگ ترقی پسندوں کا نام لیتے تھے تو انتظار حسین چڑتے تھے، کہتے تھے کہ میں بلند شہر کو ،بچپن کے دوست ریوتی کو، بچھڑے گلی کوچوں کا ذکر کرتا ہوں تو تم لوگ اسے ناسٹلجیا کہتے ہو مگر اپنے حمید اختر کو نہیں دیکھتے وہ بھی لدھیانے کو ساحر لدھیانوی کو یاد کرتا ہے تو اسے ترقی پسند مصنفین کا سیکرٹری جنرل بنا لیتے ہو۔اگر کسی کو ترقی پسندی کا مفہوم سمجھنا ہو تو دو دن پہلے اس دنیا سے جانے والے سید مظہر جمیل کے بارے میں جانے کہ وہ ناگ پور(سی پی) میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم بھی وہیں پائی ،والد ان کے مسلم لیگی تھے۔

ریاست حیدر آباد دکن کے نظام کی ریاست میں پرائمری سے یونیورسٹی تک ذریعہ تعلیم اردو زبان میں ہے وہاں پڑھنے لکھنے والے مسلمانوں کے کام کرنے کیلئے کتاب خانے ہیں دارالترجمہ ہے ایک سے ایک بڑا مصنف وہاں ہے نام لے کے دیکھیں،اردو کے پہلے ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد، ان کے معروف شاگرد اور بڑے مزاح نگار فرحت اللہ بیگ ،بابائے اردو مولوی عبدالحق،ناول نگار اور مترجم عزیز احمد اور کئی،سو سید مظہر جمیل اپنے والد کے ہمراہ وہاں آئے اور چار پیسے ہاتھ لگے کہ تجارت کر سکیں مگرانیس سو اڑتالیس میںبھارت نے اس ریاست پر پولیس ایکشن کا نام لےکر قبضہ کر لیا تب سید مظہر جمیل کی ہجرت در ہجرت کا آغاز ہوا ،وہ دوارکا نامی بحری جہاز سے پہلے بمبئی،وہاں سے مدراس،پھر کراچی پہنچے قیام ِ پاکستان کے چند برسوں کے بعد،اب ان کی کتابوں پر ایک نگاہ ڈال لیں۔’اردو فکشن اور آشوبِ سندھ‘،’انگارے سے پگھلا نیلم تک ‘،’ایلس بنامِ فیض ‘یہی نہیں ابراہیم جویو کی سوانح عمری اور فیض احمد فیض کی سوانح عمری۔اب ذرا اسی سوانح عمری پر کچھ توقف کیجئے۔مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد میں میری وابستگی سے پہلے ہر دربار کو بجا طور زینت اور افتخار بخشنے والے جناب افتخار عارف نے ایوانِ صدر میں جا کے وعدہ کیا کہ وہ فیض احمد فیض کے شایانِ شان ایک سوانح عمری لکھوائیں گے اور انہوں نے سید مظہر جمیل کا نام بھی تجویز کیا۔

بہرطور جب میں اس ادارے میں آیا تو سید مظہر جمیل نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا’’ آپ کے کتاب خانے یا آپ کے احباب کے پاس فیض احمد فیض سے متعلق جتنی بھی کتب اور جرائد ہیں،ان سب کی زیراکس نقول مجھے بھجوائیے،دوسرے مجھے تاثر دیا گیا تھا کہ مجھے ایک لاکھ روپے معاوضہ دیا جائیگا،اس کی پہلی قسط بھجوائیے۔‘‘میں نے انہیں اپنے ہی دفتر کے خزانہ دار سے نصف رقم ان کے تحفظات کے باوجود(بجٹ میں اس پروجیکٹ کیلئے رقم نہیں ) بھجوائی اور جناب فیض احمد فیض کے عاشق احمد سلیم سے کم یاب کتابوں اور نایاب جرائد کی فراہمی کی درخواست کی۔ بہت سے احباب جانتے ہیں کہ احمد سلیم عمر کی آخری گھڑی تک مجھ سے پیار کرتے تھے اور میری عزیز شاگرد ڈاکٹر حمیرا اشفاق کے بچے اگر احمد سلیم کو نانا ابو کہتے تھے تو حمیرا مجھے بابا کہتی ہے۔ یہی نہیں میرے کلاس فیلو اور نیم شاگرد صلاح الدین حیدر نے جب تین ماہ شاہی قلعے کا تشدد دیکھا تو محترمہ ایلس فیض نے انہیں بہت اہم کتب اور فائلیں دیں، میں نے سید مظہر جمیل کو ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی بھیجا اور پھر حسبِ عادت جناب آصف علی زرداری اور ان کے پرنسپل سیکرٹری کو مکاتیب لکھنے شروع کئے کہ اس سوانح عمری کیلئے کم از کم دو لاکھ روپے عنائت کیجئے کہ آپ کے کئے ہوئے وعدوں کی تعمیل ہو سکے شاید میرے مکاتیب کے سبب جناب فرحت اللہ بابر کا ایک قریب قریب جِھلّایا ہوا فون آیا کہ اتنی معمولی رقم کے لئے آپ کا صدر مملکت کو اتنے مکاتیب لکھنا مناسب نہیں۔ پھر یہ ہوا کہ شاید سید مظہر جمیل کو اسلام آباد سے مایوسی ہوئی تو انہوں نے اپنی سندھی شناسائی پہ بھروسہ کیا اور میں نےاخبار میں پڑھا کہ ان سے ابراہیم جویو اور فیض کی سوانح عمری کا مسودہ حکومتِ سندھ کی وزارتِ اطلاعات نے خرید لیا۔

تازہ ترین