• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز بحران: ایران کی تیل سے آمدن یومیہ 139 ملین ڈالرز تک پہنچ گئی

— تصویر عالمی میڈیا
— تصویر عالمی میڈیا

ایران نے جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود تیل کی برآمدات سے یومیہ تقریباً 139 ملین ڈالرز تک آمدن حاصل کی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران ناصرف تیل کی فروخت سے آمدن بڑھا رہا ہے بلکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض تجارتی جہازوں سے 20 لاکھ ڈالرز تک کی ٹرانزٹ فیس بھی وصول کر رہا ہے۔

جنگ کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ایران کو دوہرا فائدہ پہنچایا ہے۔

ایرانی خام تیل، بالخصوص ایرانی لائٹ، زیادہ تر چین کو نسبتاً کم رعایت پر فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔

اندازوں کے مطابق ایران کی تیل برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح یعنی تقریباً 1.6 ملین بیرل یومیہ کے قریب برقرار ہیں۔

ایرانی آئل ٹینکرز خارگ جزیرے سے لوڈ ہو کر خلیج فارس کے راستے آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں، اور حالیہ دنوں میں اس سرگرمی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یہ صورتِ حال دیگر خلیجی ممالک کے برعکس ہے، جہاں جنگ کے باعث تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے اور کئی مقامات پر عملی طور پر رکاوٹیں پیدا ہو چکی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملے جاری ہیں، تاہم تہران اپنی تیل برآمدات برقرار رکھ کر مالی استحکام قائم رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔

مزید برآں، واشنگٹن نے تیل کی قیمتوں پر جنگ کے اثرات کم کرنے کے لیے سمندر میں موجود ایرانی تیل کے ذخائر پر عائد پابندیوں کو عارضی طور پر نرم کیا، جس سے ایران کو مزید فائدہ پہنچا۔

ماہر ریچرڈ نیفیو نے اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے پر مجبور ہے، حالانکہ عام طور پر امریکی ترجیح ایرانی تیل کی فروخت کو روکنا ہوتی ہے۔

مارچ کے دوران ایران کی آمدن میں اضافہ دیکھا گیا، جو فروری کے تقریباً 115 ملین ڈالرز یومیہ سے بڑھ کر 139 ملین ڈالرز یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب خلیجی ممالک جیسے متحدہ عرب امارات، عراق، اور سعودی عرب کو جنگ کے باعث پیداوار اور برآمدات میں نمایاں مشکلات کا سامنا ہے۔

اگرچہ ایران کی توانائی تنصیبات زیادہ تر محفوظ رہی ہیں، تاہم حال ہی میں ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے بھی رپورٹ ہوئے، جس کے بعد ایران نے خطے میں جوابی کارروائیاں کیں۔

ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کو خبردار کیا، تاہم بعد میں انہوں نے مذاکرات کے حوالے سے مثبت پیش رفت کا عندیہ بھی دیا۔

ایرانی حکام نے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے جنگ بندی کی امریکی تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور خطے میں اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔


بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید