آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا۔
آئی ایم ایف توسیعی فنڈ سہولت کے تحت 37 ماہ کے توسیعی انتظامات کے تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدے پر پہنچ گیا۔
معاہدے کے تحت پا کستان کو 1 ارب 20 کروڑ ڈالرز کی قسط ملنے کی راہ ہموار ہو گئی۔
منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے تحت تقریباً 1 ارب ڈالرز اور Resilience and Sustainability Facility یعنی لچک اور پائیداری سہولت کے تحت تقریباً 210 ملین ڈالرز تک رسائی حاصل ہو گی۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق معیشت میں بہتری، مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ کنٹرول میں ہے، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی سے معیشت کو خطرات لاحق ہیں، ٹیکس نظام بہتر بنانے کے لیے اصلاحات جاری ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ غریب عوام کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں توسیع کی گئی ہے، مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے امداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کے لیے سخت پالیسی جاری رکھے گا۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر شرحِ سود مزید بڑھائی جا سکتی ہے، نئی قسط ملنے سے پاکستان کو ملنے والی رقم 4.5 ارب ڈالرز ہو جائے گی، پاکستان کی معیشت میں بہتری آئی ہے، مارکیٹ اعتماد بحال ہونے لگا، پاکستان میں مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رہا، زرِمبادلہ ذخائر میں اضافہ اور معاشی استحکام بہتر ہوا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مہنگائی بڑھا سکتا ہے، مالی سال 2026ء میں 1.6 فیصد پرائمری سرپلس کا ہدف ہے، پاکستان کا مالی سال 2027ء میں سرپلس 2 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان پر ٹیکس نیٹ بڑھانے اور اخراجات کنٹرول کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ پر اخراجات بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، ایف بی آر اصلاحات پر عمل درآمد شروع ہونے سے مثبت نتائج سامنے آنے لگے۔
اعلامیے کے مطابق وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی بوجھ کی بہتر تقسیم پر کام جاری ہے، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی بوجھ کی منصفانہ تقسیم پر کام جاری ہے، غربت میں کمی اور سماجی تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں، نقد امداد میں اضافہ اور ادائیگی نظام بہتر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، صحت اور تعلیم کے بجٹ میں اضافے کا حکومتی عزم برقرار ہے۔
آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرکاری اداروں کی اصلاحات اور نجکاری اہم ترجیح ہے، حکومتِ پاکستان نے مارکیٹ میں حکومتی مداخلت کم کرنے کا عندیہ دیا ہے، پاکستان بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششیں کر رہا ہے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات تیز کیے جائیں گے۔
آئی ایم ایف نے گرین ٹرانسپورٹ اور کاربن اخراج میں کمی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کے نظام کی بہتری اور آفات سے نمٹنے کے لیے مالی نظام کی تیاری جاری ہے، پاکستان میں موسمیاتی اہداف کے مطابق توانائی اصلاحات جاری ہیں۔