یہ ایک نفسیاتی مریض کی کہانی ہے جسکی بے رحمی، سفاکیت کا اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ یہ ایسا بے رحم انسان ہے جو سابق ایف بی آئی چیف رابرٹ میولر کے انتقال پر بھی خوشی کا اظہار کررہا ہے۔ لاکھوں انسانوں کے قتل کا جواز پیدا کرنے والا، ایپسٹن فائلز کا مرکزی کردار، دنیا میں امن کے نام پر جنگیں لڑنے والا جنونی جس نے غزہ میں تقریباً ایک لاکھ کے قریب فلسطینیوں کے ہولو کاسٹ پر نیتن یاہوکی سفاکی میں اس کا بھرپور ساتھ دیا۔ ایران پر مذاکرات کے آخری کامیاب لمحات کے دوران حملہ آور ہوا، ایسے شخص سے دنیا امن کی توقع رکھے یہ ممکن ہی نہیں۔ جھوٹے بیانئے، من گھڑت دعوے، کسی نہ کسی بہانے جنگوں کا جواز پیدا کرنا اس شخص کی واحد پہچان ہے۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد وجود میں آنے والا اس زمانے کا ہٹلر ہے جو کسی کی نہیں سنتا، کبھی یہ مسخرے کا روپ دھار لیتا ہے، کبھی خود سر ہو جاتا ہے، بدمست ہاتھی دنیا کے نظام کو اپنے پاؤں تلے روند رہاہے۔ خود کو اللّٰہ کی گرفت سے بالاتر سمجھنے والے ٹرمپ کو یقینا ًتاریخ سے کوئی واقفیت نہیں کہ بڑے بڑے منہ زور حکمران جب اللّٰہ کی گرفت میں آئے تو ہاتھیوں کے لشکر کو بھی ابابیلوں نے کھایا ہوا بھس بنا ڈالا۔ آج بائبل کو بنیاد بنا کر گریٹر اسرائیل بنانے کا خواب پورا کرنے کی جو حماقتیں کی جارہی ہیں ،ایران ہی ہے جو اس خواب کو چکنا چور کررہا ہے۔ عربوں کو اس بات کی سمجھ کب آئے گی کہ اللّٰہ انہیں امریکہ کے چنگل سے نکلنے کا سنہری موقع دے رہا ہے پھر بھی اس جنگ میں اُلجھتے ہی جارہے ہیں اپنے تیل کے ذخائر سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور امریکہ و اسرائیل کی ایسی غلامی میں چلے جائیں گے جس سے نکلنا کسی کے بس میں نہ ہو گا، متحدہ عرب امارات گریٹر اسرائیل منصوبے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ تحفظ کے نام پر امریکہ اربوں ڈالر کا دفاعی نظام اور نہ جانے کس قسم کا کاٹھ کباڑ اسلحہ انہیں فروخت کررہا ہے۔ہر عروج کو زوال ہے۔ صرف اللّٰہ کی بادشاہی ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔ آج عرب اور خلیجی ممالک اس جنگ سے کوئی سبق نہیں سیکھ رہے۔ اگر اس جنگ کا امریکہ اسرائیل سے ہٹ کر کوئی حل نہ نکالا گیاتو بادشاہتیں رہیں گی نہ ہی ان کا جاہ و جلال۔ اندیشہ ہےکہ خدانخواستہ ان ریاستوں کے عوام سازشی عناصر کے ہاتھوں مجبور ہو کر سلطنتوں کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں! ایران اور ان مملکتو ں کے عوام میں یہی فرق ہے۔ انقلاب ایران کے بعد انقلابی رہنماؤں نے اس قوم کواس طرح متحد کیا ہےکہ اگر کوئی ایرانی لیڈر بھی زندہ نہ رہا اور امریکی بمباری سے پورا ایران بھی تباہ و برباد ہوگیا تو اس قوم کا زندہ بچ جانے والا آخری شخص بھی صہیونیوں کے خلاف لڑتے لڑتے اپنی جان قربان کردے گا لیکن امریکی غلامی کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ایسا جذبہ کسی عرب ریاست کے عوام میں نہیں دیکھا جارہا۔کچھ نظرآتا ہے توبس روشنیوں کی چمک دمک اور ہر سو تعیشات کی بھرمار،اقبالؔ نے تقدیر امم کی بابت یہی تا کہا تھا کہ ’’ شمشیر و سناں اول طائوس و رباب آخر‘‘ ۔
امریکہ واسرائیل کو جنگ سے متاثرہ ان ریاستوں میں جو مکمل اثرو رسوخ و انٹیلی جنس رسائی حاصل ہے۔ اسکے نتائج بھی بھیانک نکلیںگے۔ ایرانی حملوں کے نتیجے میں قطر سمیت خلیجی و عرب ممالک اپنے تیل وگیس کے ذخائر سے محروم ہو رہے ہیں۔ جنگی ماہرین اس تباہی کو ایران کی کامیابی قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف صہیونیت کے خفیہ ہاتھوں کو بھی ملوث قرار دیا جارہا ہے۔ ہر طرف مسلم ممالک کے خلاف سازشیں ہی سازشیں ہو رہی ہیں۔ صرف ایران دشمنی میں امریکہ و اسرائیل کو اپنا محافظ سمجھنے والے بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ ایران کی تباہی ہر گز ہرگز ان کا تحفظ نہیں کرسکتی۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک پڑوسی ملک کی تباہی سے دوسرا پڑوسی متاثر نہ ہو۔ تباہی ہمیشہ لامحدود ہوتی ہے۔ بحث کو سمیٹتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں کہ ایران جنگ بندی کی کنجی امریکہ کے پاس ہے نہ ہی روس و چین کے پاس۔ یہ فیصلہ اب سعودی عرب، خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان آگیاہے۔جنگ کے اہم ترین اسٹیک ہولڈرز یہی ممالک ہیں جنہیں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسئلے کا مستقل اور دیرپا حل نکالنا ہوگا۔ امریکہ و اسرائیل کی چھتری سے نکلنا ہی وقت کی ضرورت ہے۔ اگرچہ اس رائے کو قبولیت ملنے کے آثار کم ہیں لیکن کون سمجھائے، تباہی صرف ایران کی نہیں پوری امت مسلمہ کی ہو رہی ہے۔سمجھنے سمجھانے کو تو بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے اگر کوئی سمجھنا چاہے تو.... اب تو امریکہ کے موجودہ و سابق انٹیلی جنس عہدے دار بھی اعتراف کررہے ہیں کہ داعش اور القاعدہ حقیقت میں امریکہ کے اپنے پیدا کردہ ”شاہکار“ ہیں اور انہیں مختلف ممالک میں انتشار و تباہی پھیلانےکیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ عراق، شام، مصر، لیبیا اور سب سے اہم آج افغانستان کا منظر نامہ آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیں۔ پاک فوج آج افغانستان میں جو کارروائیاں کررہی ہے اس کے محرکات پر نظر رکھئے ۔ یہ صرف پاکستان کی سلامتی و بقا کی نہیں ، خطے کے امن کی جنگ لڑی جارہی ہے۔ ایران پاکستان کا شکرگزار کیوں ہے؟ نہ ہم ایران جنگ میں براہ راست ملوث ہیں نہ ہم کوئی سہولت کاری کررہے ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی کا تمام تر محورامن مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ افغانستان میں پاک فوج کی کارروائیاں پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور افغانستان سے انہیں ملنے والی مدد روکنے کے ساتھ ساتھ ایران کو داعش و القاعدہ اور ان کے خوفناک چہروں کے پیچھے چھپے طالبان کرداروں سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔ بہت سے معاملات کی پردہ داری ہے۔ اس موضوع کی تفصیل کو فی الحال تاریخ پر چھوڑتے ہیں۔ خطے میں سازشوں کے پیچھے مقاصد کیا ہیں؟ بھارت کا اس میں ہندوانہ کردار، مکاری و عیاری کیا گل کھلا سکتی ہے۔ اگرگریٹر اسرائیل منصوبے کو بائبل اور قرآن کے درمیان لاکھڑا کیا گیا ہے تو مذہبی جنونیت کو ہوا دینے کی اس سازش کو بھی سمجھئے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر قابل احترام علما کرام کو جو پیغام دینا چاہتے تھے وہ یہی ہے، پاک فوج اس وقت اہم ترین محاذوں پر لڑ رہی ہے ایسے میں بین المذاہب اتحاد، یک جہتی وقت کیاہم ترین ضرورت ہے۔