• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اتفاق سے اس وقت ملک میں جتنی بھی قیادت ہے صدرِ مملکت،وزیر اعظم ،ان کے قائد میاں نواز شریف یا نائب وزیر اعظم بمع وزیر ِ خارجہ جناب اسحاق ڈار وہ عمر میں مجھ سے چھوٹے ہیں اگرچہ ہمارے استاد سعدی شیرازی نے کہا ہے ’’بزرگی بہ عقل است نہ بہ سال‘‘ اور بے شک ان کے پاس اختیار و اقتدارہے،سب سے بڑھ کےان کے پاس شاید سرکاری درزی ہیں،قابلِ رشک ملبوسات تیار کرنے والے،صاحب زادہ یعقوب علی کی طرح چھ سات زبانوں پر حاوی کہ بتایا گیا تھا وہ عربی زبان جانتے ہیں ،انگریزی کی استعداد بھی بہتر ہے وگرنہ امریکی صدر تو شاہ چارلس دوم اور برطانوی وزیرِ اعظم ہی نہیں لندن کے میئرہمارے پیارے لارڈ صادق کی زبان سے زیادہ لہجے کی غلطیاں نکالتے ہیں پر ہمارے وزیرِ اعظم کو پسند کرتے ہیں اب بھی وہ اسلام آباد میں آنے والے ترکیہ ،مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے اس اجتماع کو شاید پسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستانی وزیرِ خارجہ کے ٹویٹ کوری ٹویٹ کیا ہے۔اس وقت کچھ حقیقی اور کچھ افسانوی کیمرے ہمارے چاروں طرف لگے ہیں۔آپ جانتے ہیں کہ ہم پیدائشی مقروض ہیں ،کچھ امریکہ اور مغربی حلیفوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ورلڈ بینک یا انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ کو اشارہ کریں گے کہ ہمارے لئے امدادکی ایک اور قسط فراہم کر دیں گے جس کے بعد جاننے والے بتائیں گے کہ قرض میں کمی نہیں اضافہ ہو گا۔بہر طور پاکستانی سفارت کاری کی مہارت ہے ہم نے ترکیہ،مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ اسلام آباد میں بلا لئے۔بیشتر پڑھے لکھے جانتے ہیں کہ ترکیہ اور مصر نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے،سعودی عرب کو امریکہ کا دوست خیال کیا جاتا ہے کہ صدر امریکہ کا سعودی ولی عہد کے بارے میں ناشائستہ بیان بہت سے لوگوں کو چونکا رہا ہے کہ جناب ٹرمپ سے تہذیب کی توقع تو خود امریکیوں کو نہیں رہی تاہم سعودی عرب کے کرائون پرنس کی بیدار مغزی کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ اس مرتبہ امریکہ کیلئے آسان نہیں ہوگا کہ ایران،امریکہ جنگ کے اخراجات کا بل سعودی عرب تو کیا، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات ادا کریں اور جناب ٹرمپ ایک آنکھ میچ کے شیخی بگھاریں کہ میرے پیارے دائود بن گوریان،شمعون پیریز اور نیتن یاہو کے خوابوں کی تعبیر کا وقت قریب آ پہنچا ہے،ہلاکت خیز ہتھیاروں کا نشانہ بننے والے ایران نے شہادتوں اور معاشی آزمائشوں کا سامنا اور کتنی دیر کرنا ہے؟ کوئی شاہنامے سے فال نکال رہا ہے اور کوئی دیوانِ حافظ سے اور کوئی عمر خیام کی رباعی لئے پھرتا ہے تاہم ایرانی جامعات اور سائنس ٹیکنالوجی کے مراکز پر امریکہ اور اسرائیل کا حملہ سیدھا سادا اشارہ ہے کہ دفاعِ وطن کے لئے یہی درس گاہیں اور ان کے سربراہوں کی فعالیت سر بہ کف نعروں سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔ایران کے ایٹمی توانائی کے مراکز پر بم باری کے بعد وہاں تابکاری کے اخراج کا مداوا جوشِ خطابت نہیں اور نہ ہی پاسداران انقلاب کی استعداد اس کا سامنا کر سکتی ہے اس وقت ضرورت ہے کہ ایرانی صدر اور وزیر خارجہ زیر زمین رہیں اپنی سلامتی کو یقینی بنائیں اور ایرانی عوام کو بھی تعمیرِ وطن میں مصروف رکھنے کی تدابیر کی جائیں۔ پاکستانیوں کے لئے سب سے آسان کام بچوں سے اسکول ،کالج اور یونیورسٹیاں بند کرنا ہے لیکن ذرا یاد کیجئے پاکستان ٹائمز کے کارٹونسٹ انور کا زندہ جاوید کردار ننھا جسے کو ئی بڑا زبردستی اسکول لے جا رہا ہوتا تھا اور وہ منہ بسور رہا ہوتا تھا اور ایسی درس گاہوں کو ایسے ناراض معصوم پرندوں کی چہکار سے آباد رکھنے کا آرزو مند کسی راہ گیر کے بھیس میں کہہ رہا ہوتا تھا کہ لگتا ہے مارچ،اپریل آ گیا ہے اسکول کھل گئے ہیں۔ہمارے پاس حساب کتاب رکھنے والے ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ اس موسم میں روس اور چین کے ہی نہیں افغانستان،بھارت اور وسط ایشیا کے پرندے پہنچ رہے ہیں،ہمارے پاس سورج کی روشنی ہے ،ابھی بھی کافی درخت اور سبزہ ہے،بارش ہوتی ہے اس وقت بھی اسلام آباد ،لاہور اور فیصل آباد میں بارش ہو رہی ہے پھر ان پرندوں نے کون سا موٹر وے سے آنا ہے ؟ ان کی آمد ایک اشارہ ہے کہ شکا ری بھی آئیں گے ۔ ہمارے ہاں یاسیت پسند کہتے ہیں کہ کچھ نہیں ہو سکتا،کرپشن کا زہر درس گاہوں تک پہنچ گیا ہے مگر اصلاح کہیں سےبھی ہو اس کی تعریف کی جانی چاہئے ۔ہماری درس گاہوں میں بوٹی مافیا،رشوت خور ممتحن اور نقل کراکے لکھ پتی بلکہ کروڑ پتی بن جانے والے لوگوں کا راج رہا ہے ،بہت سے ڈاکٹروں،انجینئروں تو کیا استادوں وائس چانسلروں کے ماتھے پر لکھا ہے کہ کہیں نہ کہیں گڑ بڑ ہوئی ہے مگر پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ نے تعلیمی بورڈوں کے سربراہوں،کمشنروں،ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی کہ اس مرتبہ کے امتحانات میں نقل کرانے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا،بے شک برسوں اور عشروں کا بگاڑ ہے۔آپ جانتے ہیں کہ کسی زمانے میں پرائمری میں بھی وظیفے کا امتحان ہوتا تھا اور یہ وظیفہ تین برس تک یعنی مڈل کے امتحان تک جاری رہتا تب بھی امتحانی مرکز اپنا اسکول نہیں ہوتا تھا مگر کچھ مضطرب صدر معلم بھی ’کھلّے اور بُجّے‘کو بھی اپنے اسکول کو زیادہ سے زیادہ وظیفے دلانے کے لئے استعمال کرتے تھے یعنی بظاہر کسی کو ڈانٹنے کے لئےبُجّہ دیتے مگر دونوں ہتھیلیوں پر ضروری جواب لکھے ہوتے اسی طرح وہ جوتا اچھالتے یا دکھاتے تو اس کے تلے پر موٹے قلم سے کچھ جواب لکھے ہوتے مگر اب مریم بی بی نے عزم کیا ہے تو پھر لائق بچے بھی چاہیں گے کہ ان کے میرٹ کا اعتبار بحال ہو،ماں باپ اور درسگاہوں کے سربراہ بھی چاہیں گے کہ ان کے دعووں کی تصدیق میرٹ کرے ۔

تازہ ترین