ایران اپنے پہاڑوں اور ریگستانی علاقوں کی وجہ سے ایک مضبوط قلعے کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے پہاڑ شمال، مغرب اور جنوب سے دفاعی دیوار فراہم کرتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے گزشتہ ماہ سے ایران پر حملے شروع کیے لیکن ایرانی مزاحمت توقع سے زیادہ سخت ثابت ہو رہی ہے۔
بھارتی میڈیا پر سابق بھارتی کرنل اور جنگی مبصر راجیو اگروال کے شائع ہونے والے ایک تجزیے کے مطابق امریکا نے 5,000 سے 7,000 فوجی ایران میں بھیجنے کی تیاری مکمل کر لی ہے جس میں 82 ویں ایئر بورن ڈویژن، 31 ویں و 11 ویں میرین ایکسپڈیشنری یونٹس بھی شامل ہیں، ان کا ہدف خلیج فارس کے اہم جزائر، نیوکلئیر سائٹس اور بندرگاہیں ہو سکتی ہیں۔
سابق بھارتی کرنل راجیو اگروال کے مطابق ایران کی اہم دفاعی رکاوٹیں دو بڑے پہاڑی سلسلے ہیں جن میں زاگروس اور البروز پہاڑ ہے۔
زاگروس پہاڑ: شمال مغرب سے جنوب مشرق تک 1,500 کلومیٹر، عراق اور ترکی کی طرف سے ممکنہ حملے کو روکتا ہے۔
البروز پہاڑ: شمال میں خزر کے ساحل کے ساتھ ہے جس میں ایران کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ دماوند شامل ہے۔
وسطی ایران میں دشتِ لوط اور دشتِ کبیر کے ریگستان زمین کے آپریشنز کو مزید مشکل بناتے ہیں۔
بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق خلیجِ فارس کے جزائر جیسے خارگ جزیرہ، ابو موسیٰ، بڑے و چھوٹے جزائر تنب اور قشم، ہرمز، لارک کی جغرافیائی اہمیت بڑی ہے لیکن کم قدرتی پناہ گاہ اور ایران کے قریب ہونے کی وجہ سے فوجی کارروائی میں خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
بھارتی سابق کرنل راجیو اگروال کا کہنا ہے کہ امریکا کے پاس زمینی آپریشن کے محدود آپشنز ہیں جیسے کہ کویت سے شمالی ایران میں داخل ہو کر اہواز اور آبادان کی طرف بڑھنا اور پاکستان کے راستے بلوچستان سرحد سے محدود کارروائی کرنا، مگر یہاں بھی رکاوٹیں زیادہ اور مقاصد کم ہیں۔
بھارتی مبصر کا کہنا ہے کہ کوئی بھی زمینی آپریشن صرف مخصوص اور محدود مقصد کے لیے ہونا چاہیے، نیوکلئیر یورینیئم کے خاتمے یا جزائر پر قبضہ، بغیر صحیح منصوبے اور مقامات کے خطرناک اور مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔