دنیا پُر امید تھی کہ صدر ٹرمپ کا خطاب کشیدگی میں کمی کا باعث بنے گا، مگر الٹا غیر یقینی کو بڑھا دیا۔ آج دنیا ایک انتہائی خطرناک، نازک موڑ پر کھڑی ہے ۔ صدر ٹرمپ کا خدائی لہجہ اور ایران کو نیست و نابود کرنے کے عزائم۔یوں لگتا ہے قیامت کی گھڑی آن کھڑی ، صدر ٹرمپ خطہ ارضی کو برباد کرنے پر تُل چکا ہے ۔ تاریخ انسانی میں ایسی ذہنی پسماندگی،غیرسنجیدگی اور غیرمتوازن قیادت جسکے پاس درجنوں آتش فشاں پہاڑوںسے بھی کئی گنا زیادہ آتشیں سیال کی حقوق ملکیت اور وہ سارا مواد ، لاوا ( MAGMA ) ایران کیخلاف استعمال کرنے کا متمنی ہو ، ایسا آتشیں مواد جو خطہ ارضی کو 10 دفعہ تباہ کرنے کیلئے کافی ہو، جبکہ ایران کا رقبہ کرہِ ارضی کا 1فیصدہے ۔
افسوس کہ حالیہ امریکی صدارتی خطاب ابہام، تضاد اور غیر یقینی کو مستحکم کرچکا ہے۔ اب جبکہ امریکی صدر ٹرمپ کا خطاب میں دعویٰ کہ ’’امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف کے قریب پہنچ چکا یا حاصل کر چکا ہے تو پھر آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران کو پتھر کے دور میں پہنچانا ، ٹرمپ کی فرسٹریشن کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔
جنگ کا مشکل مرحلہ گزر چکا ہے اور ایران اب ہمارے لئے کوئی خطرہ نہیں رہا، اس کی بیلسٹک میزائل اور جوہری صلاحیتیں ختم کر دی گئی ہیں اور جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے‘‘ ۔ پوچھنا بنتا ہے کہ دو تین ہفتے کس مد میں درکار ہیں ، کس وحشیانہ جبلت کو پورا کرنا مقصد ہے ۔
مت بھولیں کہ امریکہ نے یہ جنگ 2 دن میں ختم کرنی تھی اور رجیم تبدیل ہو جانا تھا ۔ بالفرض محال، جنگ آج بند بھی کر دیں تو بھی حالات نارمل ہونے میں کم از کم دو سال لگنے ہیں ۔ اب جبکہ اگلے دو ہفتے میں دھواںدار بمباری ہو گی تو حالات کس نہج پر ہونگے ، سوچ کر دماغ سُن اور دل دہل جاتا ہے ، جسم پر کپکپی طاری رہتی ہے ۔
ازراہِ تفنن ، گر تمام اہداف حاصل ہو چکے ہیں تو مزید دو تین ہفتے بچوں عورتوں ، عام شہریوں پر آگ برسانے کی ہوس کیونکر ؟ آج انکشاف کیا کہ ’’اگرچہ ایرانی قیادت ختم ہو چکی ہے اور عملی طور پر تبدیلی واقع بھی ہو چکی ہے ‘‘۔ صدر ٹرمپ مجموعہ تضادات ، جھوٹ ، مبالغہ ، خام خیالی میں یکتاء ، 28 فروری کو عالمی میڈیا پر وائس پیغامات کہ’’ حکومت پر قبضہ کرلو کہ ہم نے سب قیادت کو ختم کر دیا ہے‘‘ ۔ اسی سانس میں ،’’ امریکہ کو مشرق وسطیٰ کے تیل یا وسائل کی کوئی ضرورت نہیں ، اور خلیج فارس کی گزرگاہ آبنائے ہرمز خود بخود کھل جائیگی ‘‘۔
یہ دعویٰ حقیقت سے تاحدِ نگاہ دور کہ عالمی منڈیوں کا فوری ردعمل تیل کی قیمت اور اسٹاک مارکیٹ میں کہرام مچا ہے ۔ تیل کی قیمتوں کو پر لگ چکے ہیں ، کالم کے اختتام پر خام تیل 110ڈالر فی بیرل پر پہنچ چکا تھا ۔ جبکہ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں منہ کے بل اوندھی پڑی ہیں ۔ امریکہ کو یہ بات کس طرح باور کرائی جائے کہ ایران کی جنگی حکمت عملی انکے گولہ بارود کا مقابلہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کے ذریعے معاشی دباؤ ڈال کو امریکہ کو نیچا دکھانا ہے ۔ آج کی معاشی بے چینی آنیوالے دنوں کی ہولناکیوں اور خوفناکیوں کا شو کیس ہے ۔ یقین سے کہتا ہوں کہ اگلے 2 دن کی بمباری کے بعد حوثیوں نے باب المندب پر قبضہ جما لینا ہے ، خام تیل 200 ڈالر اور اسٹاک مارکیٹیں مکمل دیوالیہ ہو جائیں گی ۔
ٹرمپ کی تقریر سے ایران کیا متاثرہوتا ، مشرق تا مغرب ، شمال ، جنوب امریکہ کے اتحادی یا ’’ویری‘‘ تمام ممالک کی قیادت پھٹ پڑی بلکہ رو پڑی ۔ جنگ کا غیر واضح اختتام اور طوالت عالمی معیشت پر گھنگھور گھٹا بن کر تن چکا ہے ۔ اگرچہ نیٹو ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور اس جنگ سے خود کو الگ رکھے ہے ، 36دن کی جنگ نے تمام یورپین ممالک کینیڈا ، آسٹریلیا ، جاپان کی چولیں ہلا رکھی ہیں ۔
ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ہمیں امریکہ سے براہ راست مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں ، البتہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات میں بتا دیا ہے کہ ضمانت شدہ مستقل جنگ بندی کا اعلان فی الفور ہوگا تو مذاکرات کی بات بڑھے گی ۔ ایران کا موقف واضح ، جنگ بندی کی درخواست میںدلچسپی نہیں ، جب تک کہ نقصانات کا ازالہ نہیں ہوتا، اور امریکہ اسرائیل کو پابند نہیں کیا جاتا کہ مجرمانہ جارحیت کو ہمیشہ کیلئے لگام دیں ۔ ایران کو’’ پتھر کے دور‘‘ میں پہنچانے کی دھمکی نفرت انگیز اور غیر ذمہ دارانہ بیان، رعونت اور تکبر کی بدترین انتہا ہے ۔
زمینی حقائق سامنے ، اس وقت تنازع آبنائے ہرمز کو چالو کرنا ہے ۔ 28فروری کو آبنائے ہرمز ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھلی تھی اور اسے بین الاقوامی گزرگاہ کا درجہ حاصل تھا ۔ جبکہ آج آبنائے ہرمز کے حقوق ملکیت ایران نے جتلا رکھے ہیں ۔ آبنائے ہرمز پر ایران کا عملی کنٹرول ہے ۔ آنےوالے دنوں میں دنیا کا 20 فیصد تیل اور تجارتی سمندری جہاز ایران کو معقول ( TOLL ) دے کر گزریں گے ، یہ ایران کی عسکری نہیں بلکہ معاشی فتح ہے ۔
صدر ٹرمپ کی خام خیالی کہ گولہ بارود ، بمباری اور تباہی سے ایران پر قبضہ ہو جائےگا ۔ چشم تصور میں وینزویلا ( جسکا تیل اپنی تقریر میں آج بے شرمی سے بیچ رہے تھے ) ، لیبیا کی طرح ایران کا تیل بھی استعمال میں رہنا تھا ۔ عالمی طاقت کے سامنے ایران کی غیرمتوازن ، شاندار حکمت عملی غیرروایتی جنگی اسلوب ، میزائل، ڈرون اور سائبر حملوں نے ایران کو غیرمعمولی خطرناک بنا رکھا ہے ۔ صدر ٹرمپ کے بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان غیرمعمولی خلا نے پوری دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ایران کو اگلے دو ہفتوں میں STONE-AGE یعنی پتھر کے زمانے میں دھکیلنا ہے ۔
پچھلے 36 دن کا بھی حاصل کلام یہی کچھ جبکہ ایران کی نہ باقاعدہ نیوی ہے اور نہ ایران کے جہاز اس قابل کہ جنگ کا حصہ بنتے ۔ ایرانی فوج کی اصل طاقت غیر متوازن ( ASYMMETRIC ) میدان ہے جس میں وہ جھنڈے گاڑ چکا ہے ۔ خصوصی آپریشنز ، بارودی آلات کی تنصیب ،اسرائیل اور خلیجی ریاستوں ، امریکی اثاثوں پر میزائل حملے ، سائبر حملے اور ڈرون حملوں نے امریکہ کی ناک میں دم کر رکھا ہے ۔ اگر صدر ٹرمپ اپنا سارا آتش خزانہ ایران پر برسارہے ہیںاور اسکے باوجود ایرانی میزائل امریکہ، اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے ہیں تو پوچھنا بنتا ہے کہ اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا ، کیا عام شہریوں کے خون سے ہولی کیلئے مزید 2 ہفتے درکار ہیں ۔ ایران کیساتھ امریکہ ، ایشیا، افریقہ ، دنیا کے عوام یک جہتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، امریکہ اور اسرائیل تنہا رہ گئے ۔جب 2 ہفتے گزریں تو پوچھنا بنتا ہے کہ ایران پتھر کے زمانے میں ہوگا یا اسرائیل کا باجا بج چکا ہوگا ۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی آج کی پریس کانفرنس تحمل ، بردباری ، شرافت ، حکمت کےساتھ صدر ٹرمپ کی آج کی تقریر کے سارے نکات کے جوابات موجود تھے ۔ شاباش ایران ، اُمت کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں ۔ آج یقیناََ ایران اس ایمان سے مالامال ، مسلم اُمت کی قیادت ہتھیا چکا ہے ۔