• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کا بعداز جنگ آبنائے ہرمز سے گزرنے پر فیس عائد کرنے کا عندیہ

— فائل فوٹوز
— فائل فوٹوز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ میں خود کو فاتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ایک ایسے تصور پر غور کر رہا ہے جس کے تحت اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں جہازوں سے ٹول وصول کیا جا سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں عندیہ دیا کہ امریکا جنگ کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر فیس عائد کرنے پر غور کر سکتا ہے، جس کے لیے ممکنہ طور پر اس اہم گزرگاہ پر براہِ راست امریکی فوجی کنٹرول درکار ہو گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ایسے کسی معاہدے کو قبول کریں گے جس کے تحت ایران آبنائے سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرے، تو ٹرمپ نے کہا کہ ہم خود ٹول کیوں نہ لیں؟ میں یہ زیادہ پسند کروں گا بانسبت اس کے کہ ہم انہیں لینے دیں، ہم کیوں نہیں لے سکتے؟ ہم فاتح ہیں، ہم جیت گئے ہیں۔

ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا کہ ایران کو عسکری طور پر شکست ہو چکی ہے، حالانکہ ایران کی جانب سے خطے میں ڈرون اور میزائل حملے جاری رہے ہیں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بھی برقرار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس صرف نفسیاتی حربہ رہ گیا ہے کہ وہ کہیں گے کہ ہم پانی میں بارودی سرنگیں بچھا دیں گے لیکن ہمارے پاس ایک تصور ہے جس کے تحت ہم ٹول وصول کریں گے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز جو خلیج کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے، زیادہ تر عمان اور ایران کی علاقائی حدود میں واقع ہے، جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل اسی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے تہران کو ایک حتمی الٹی میٹم دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے کو دوبارہ کھولے اور امریکا کی شرائط تسلیم کرے، بصورتِ دیگر ایران کے شہری انفرااسٹرکچر، بشمول پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں آبنائے ہرمز کی بحالی ایک لازمی جزو ہو گا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید