بالی ووڈ کے نامور اداکار منوج باجپائی نے فلم ’ گھوس خور پنڈت‘کے نام سے پیدا تنازع پر ملنے والی تنقید اور دھمکیوں پر لب کشائی کردی۔
57 سالہ منوج باجپائی نے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ مجھے فلم سے جڑے تنازع میں شدید تنقید اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، میرے خاندان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر کسی تخلیقی کام سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو فنکار کا کام ہے کہ وہ اپنی غلطی درست کرے۔ فلم کا نام تبدیل کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ تخلیقی لوگ نئے اور بہتر عنوانات تلاش کرسکتے ہیں۔
اُنہوں نے سوشل میڈیا پر جلد بازی میں رائے بنانے کے رجحان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بہت سے لوگ کسی فلم کا موضوع سمجھے بغیر ہی ردعمل دے دیتے ہیں۔
اس فلم کے معاملے پر پروڈیوسر نیرج پانڈے نے کہا تھا کہ یہ پنڈٹ برادری سے متعلق نہیں بلکہ ایک کردار کی عرفیت ہے۔
نیٹ فلکس پر فلم کی ریلیز سے قبل اس کے نام پر تنازع کھڑا ہوگیا تھا، جس پر بعض افراد، سیاسی رہنماؤں اور تنظیموں نے ذات پات کے حوالے سے توہین آمیز اور قابلِ اعتراض ہونے کا الزام لگایا۔
اس معاملے پر فلم سازوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی، بعد ازاں فلم کے پروڈیوسرز نے معذرت کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کو یقین دہانی کرائی کہ فلم کا عنوان تبدیل کر دیا جائے گا۔
فلم کا نیا عنوان ابھی تک سامنے نہیں آیا، جبکہ اس کی ریلیز رواں سال نیٹ فلکس پر متوقع ہے۔