امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہُرمُز کھولنے کے اعلان کے بعد پچھلے 24 گھنٹوں میں 24 بحری جہازوں نے آبنائے کو عبور کرلیا۔ صدر ٹرمپ نے کل ایران کی بحری ناکا بندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ 24 جہاز ایرانی بحریہ کے تعاون سے آبنائے ہُرمُز سے نکلے ہیں۔ ان جہازوں میں تیل بردار ٹینکرز اور کنٹینر بردار بحری جہاز شامل تھے۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کے فوجی مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکا نے تاحال بحری ناکا بندی جاری رکھی ہوئی ہے۔ ناکابندی جاری رکھ کر اور مذاکرات میں حد سے زیادہ مطالبات کر کے ٹرمپ پھر "سفارتکاری سے غداری" کے مرتکب ہوئے ہیں۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ ایران کو معلوم ہے کہ اسے ڈیل کے لیے کیا کرنا ہے۔ ڈیل نہ ہوسکی تو امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے تیار ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے ناکا بندی کے خاتمے پر کہا کہ جو کچھ بھی ہٹایا جائے گا وہ آہستہ آہستہ ہٹایا جائے گا۔
ادھر ایرانی رکن پارلیمنٹ علی رضا سلیمی نے کہا ہے کہ آبنائے ہُرمُز پر ایرانی خود مختاری کا منصوبہ جلد پارلیمنٹ میں پیش ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہُرمُز ایران کے لیے درجنوں ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ اہم ہے۔ ایران آبنائے ہُرمُز کے انتظام کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔