غزہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج کے ہاتھوں عام فلسطینیوں کا قتل معمول بنا ہوا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے کو سابق اسرائیلی فوجیوں نے بتایا کہ اسرائیلی زیر قبضہ علاقوں کو دیگر غزہ سے الگ کرنے والی نام نہاد "یلو لائن" کے قریب آنے والے ہر فلسطینی پر گولی چلانا بالکل عام بات ہے۔
ایک فوجی نے بتایا کہ ایک موقع پر انہوں نے فلسطینیوں سے بھری ایک گاڑی پر حملہ کر کے اس میں سوار ہر فرد کی ہلاکت کا جشن منایا۔
فوجی نے کہا کہ "وہ ایک جنگل کا ماحول تھا"۔ جنگ بندی کے بعد بھی فوجیوں کو لائن کراس کرنے والے ہر فرد کو مارنے کے کھلے احکامات تھے۔ وہ یہ جانے بغیر کہ آگے کون ہے، اندھا دھند گولی چلا دیتے تھے۔
اسرائیلی فوجیوں میں یہ احساس عام تھا کہ فلسطینی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں۔ جنگ بندی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک فوجی نے بتایا کہ "اسے جنگ بندی کہنا مذاق ہے"۔