بات ’’اسمارٹ لاک ڈائون‘‘ کی چل رہی تھی، پٹرول کی قیمتوں میں ایسا اضافہ کیا گیا کہ ملک مکمل لاک ڈائون تک پہنچ گیا۔ پھر شاید حکمرانوں تک ایسی رپورٹیں گئیں، ممکنہ عوامی ردعمل اور غصہ کی کہ وزیراعظم شہبازشریف کو خود قوم سے خطاب کرکے قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان کرنا پڑا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ پہلے اقدام کا اعلان بھی خود ہی کرتے اور عوام کو اعتماد لیتے خود سادہ زندگی گزارنے، اپنے وزیروں اور مشیروں کی تعداد میں کمی اورنام نہاد وی آئی پی کلچر کے خاتمے کا اعلان کرتے، حکمران خود مثال بنتے ہیں تو لوگ مشکل حالات کو برداشت بھی کرلیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے مگر جس طرح اچانک ہمارے حکمرانوں نے عوام پر پٹرول بم پھینکا ہے، اس نے حقیقت میں لوگوں کی چیخیں نکلوا دی ہیں اور ایسے خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ نہ صرف مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے بلکہ بیروزگاری کی بھی ایک نہ روکنے والی لہر ہماری منتظر ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’’امن کا نوبل انعام‘‘ نہ ملنے کا اتنا غصہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف ایران کو، غزہ کو، بلکہ دنیا کو ’’Stone Age‘‘ میں بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جو جنگ وہ چند دن میں ختم کرنے والے تھے، اس کو اب ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، دنیا میں امن قائم کرنے کے نام پر قبرستان آبادکیے جارہے ہیں، لاکھوں لوگ اب تک عراق سے ایران تک ان دو دہائیوں میں مارے جاچکے ہیں، جن میں ایک بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے جنہیں نشانہ بنانے کا ایک بہت واضح مقصد آنے والی نسل کو روکنا نظر آتا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دنیا کے بہت سے ممالک کے مقابلے میں ہمارے حالات بہت خراب ہیں کیونکہ پچھلے 78سال میں کبھی اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش ہی نہیں کی، اب اربوں اور کھربوں کے قرضوں میں ڈوبا ملک ایسے حالات کا متحمل نہیں ہوسکتا مگر اپنی ناکامیوں اور کرپشن، کمیشن اور ناقص پالیسیوں کا بوجھ عوام پر ہی کیوں ڈالا جارہا ہے، ہم نے کبھی اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش ہی نہیں کی، ہمیشہ محتاج رہے اور اب تو لگتا ہے عادت سی پڑ گئی دوسروں کے سہارے پر زندہ رہنے کی، مگر اب تو انہوں نے بھی مزید حمایت اور مدد کرنے سے معذرت کرلی ہے۔ بس حیرت ہے تو اس بات کی کہ ہمارے حکمرانوں اور بیورو کریسی کا طرز حکمرانی دیکھیں تو لگتا نہیں کہ ہم کسی معاشی بحران سے گزر رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ تیسری دنیا کا نہیں ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔ دنیا کے ہم سے بہتر معاشی صورتحال سے دوچار ملکوں کے سربراہ خود مثال بن رہے ہیں۔ ان ممالک کے بیشتر صدر، وزیراعظم اور وزراء پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں، بسوں اور ٹرینوں میں سفر کرتے ہیں اور یہی نہیں سائیکلوں پر دفاتر آتے جاتے ہیں، مگر ہمارے یہاں یہ ایک آئیڈل بات لگتی ہے۔ کیونکہ ہماری اشرافیہ کی اکثریت کا تعلق جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ کلاس سے ہے۔ بدقسمتی سے جن کا تعلق متوسط طبقہ سے ہے وہ بھی مال بنانے کی جلدی میں لگتے ہیں۔
اب تو اس ملک میں ان تمام ناانصافیوں کے خلاف ’’احتجاج کا کلچر‘‘ بھی ختم ہوتا جارہا ہے۔ ایک وقت تھا جب ایوب خان کے زمانے میں ’’چینی‘‘ کی قیمت میں معمولی سا اضافہ ہوا تو ملک گیر احتجاج ہوا، لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ کئی احتجاجی تحریکوں کے بنیادی مطالبات میں مہنگائی سرفہرست ہوتی تھی۔ حکومت کو بھی اندازہ ہوتا تھا کہ کل انہیں دوبارہ عوام کے پاس جانا ہے۔ اب تو لگتا ہے یہ احساس بھی ختم ہوگیا ہے کہ حکمراں عوام کو جوابدہ ہیں، کیونکہ اب ’’ووٹ‘‘ اقتدار میں آنے کا ذریعہ ہی نہیں رہا، ’’مقبولیت‘‘ بے معنی سی ہوکر رہ گئی ہے۔ ایک وقت تھا جب مقبول لیڈرز غیر مقبول فیصلے کرنے کی جرات بھی رکھتے تھے، اگر وہ ان فیصلوں کو درست سمجھتے تھے، وہ عوام کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کی بھی کوشش کرتے تھے عوام کے درمیان رہ کر ۔مجھے یاد ہے ایک بار لیاقت آباد میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے جلسے کے دوران عوام نے اپنے غصے کا اظہار کیا تو بھٹو نے جواب دیا۔ ’’ہاں مجھے پتا ہے بہت مہنگائی ہوگئی ہے اور یہ غصہ بجا ہے۔‘‘ اب ہماری بدقسمتی کہ ہماری حکومتوں نے کبھی نہ پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے پر توجہ دی، نہ سرکاری تعلیم، اسکول اور کالجوں پر توجہ دی گئی اور نہ ہی عام آدمی کیلئے بہتر صحت کی سہولتیں، اسپتال نہ ہی پینے کا صاف پانی ملا اور نہ ہی عام آدمی کی بنیادی ضروریات کے حوالے سے کوئی موثر اقدامات ہوئے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان سارے اداروں میں نہ وہ خود جاتے ہیں نہ ہی ان کے گھر والے، تو ان کو کیوں فکر ہو، پہلے تھوڑا بہت اس لیے بھی ہوجاتا تھا کہ بہرحال الیکشن میں تو ووٹ مانگنے جانا ہی پڑتا تھا، اب خیر سے حکمران اشرافیہ نے یہ مسئلہ بھی حل کردیا ہے اور یہ تصور عام ہوتا جارہا ہے کہ ’’جو لائے تھے وہی دوبارہ بھی لے آئیں گے۔‘‘
عوام یا اپوزیشن کا احتجاج بھی سڑکوں پر کم اور ’’موبائل فون‘‘ یعنی سوشل میڈیا پر زیادہ نظر آتا ہے اور شاید حکمرانوں اور ریاست کو بھی اس سے زیادہ پریشانی نہیں، گوکہ انہوں نے ایسے قوانین بنالیے ہیں کہ ایسی آوازوں کو بھی بند کردیا جائے۔ سیاسی تحریکیں مکمل طور پر ماند پڑتی جارہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ تقریر سے لے کر تحریر تک سب کچھ ’’ہائبرڈ‘‘ ہوگیا ہے۔
بہرکیف آنے والا وقت مزید مشکلات لاسکتا ہے، بس دعا کریں کہ یہ جنگ جتنی جلدی ہو ختم ہوجائے۔ بس ہمارے اور دنیا کے دیگر ممالک بشمول امریکہ اور یورپ میں فرق یہ ہے کہ وہاں کے عوام کم از کم اس جنگ اور ناانصافیوں کے خلاف کھڑے تو ہوئے جس کی واضح مثال حالیہ جنگ میں امریکہ اور ٹرمپ کی تنہائی ہے اس کے اتحادیوں نے بھی اس جنگ کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔ یہ ہوتا ہے عوامی دبائو ایک طرف خود کئی ممالک کے حکمرانوں نے سادگی اپنائی اور عوامی ردعمل کا احترام بھی کیا مگر شاید ہمارے یہاں عوام مہنگائی تلے اس قدر دب چکے ہیں کہ اپنے غصہ کا اظہار بس ایک ’’ٹک ٹاک‘‘ سے کرلیتے ہیں۔