7اپریل 2026ء اور جنوبی ایشیا میں دن کے ابتدائی گھنٹے ہیں۔ ہمارے ہمسائے میں مکمل تباہی اور اس کے ناقابل پیش گوئی نتائج کی دھمکی میں بمشکل چند گھنٹے باقی ہیں۔ ان سطروں کی اشاعت تک آگ کے شعلے دنیا کے خدوخال بدل ڈالیں گے اور اگر عقل و خرد کی پکار پر کان دھرے گئے تو بھی غالب امکان یہ ہے کہ موت ، دکھ ، بھوک اور تباہی کا منظر بوجھل قدموں سے جاری رہے گا۔جون1859 میں سولفرینو کی جنگ بیسویں صدی میں عالمی جنگوں سے قبل آخری بڑی لڑائیوں میں سے ایک تھی۔ اس لڑائی میں تباہی کے مناظر نے انسانی ضمیر جھنجھوڑڈالا اور پہلی بار یہ احساس جاگا کہ جنگ و جدل کو عالمی سطح پر کچھ متفقہ ضابطوں کا پابند ہونا چاہیے۔ سوئس شہری ہنری ڈونا ں کی تحریک پر بین الاقوامی ریڈ کراس قائم ہوئی۔ 1864میں جنیوا کنونشن کے ابتدائی خدوخال مرتب ہوئے تاہم بیسوی صدی میں دو عالمی جنگوں نے یہ قواعد و ضوابط ملیامیٹ کر دیے چنانچہ 1949میں جنیوا کنونشن ہی کے عنوان سے چار بین الاقوامی معاہدے تشکیل پائے۔ یہ معاہدے غیر مسلح شہریوں کی حفاظت ، بنیادی انسانی ضروریات کی ضمانت اور جنگی قیدیوں کے حقوق سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دنوں امریکی قیادت کی دھمکیاں ان عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ جنگ بذات خود انسانیت کے خلاف بدترین جرم ہے۔ تمام انسان کسی امتیاز کے بغیر پرامن زندگی اور بنیادی ضروریا ت مثلاً خوراک ، پانی، پناہ اور علاج معالجے کا حق رکھتے ہیں۔ جنگ معمولات زندگی کے تعطل کا نام ہے۔ ماہرین نفسیات جنگ کے بارے میںDehumanization کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں ۔ گویا انسانی تکلیف اور بے بسی سے ایسی لاتعلقی جو درجہ انسانیت سے گری ہوئی ہو۔ انسانی ضمیر اور جنگ میں بنیادی اختلاف پایا جاتا ہے۔ جنگ کا جواز خواہ کچھ بھی ہو ، جنگ نظریات ، وسائل اور شناخت پر قبضے کا جواز تراش کر فرد کی دنیا پر تاریکی اتارنے کا نام ہے۔ طاقت اور کمزوری میں یہ غیر متناسب مقابلہ جنگل کی میراث ہے۔ جنگ کا متبادل صرف ایسی دنیا کا قیام ہے جس میں بقائے باہمی کے اصول پر انسانی زندگی کا احترام یقینی بنایا جا سکے۔ یہ تاریخ کا جبر ہے کہ نپولین سے چرچل ، ہٹلر سے اسٹالن ،ایرئیل شیرون سے نیتن یاہو ، گل بدین حکمت یار سے ملاعمر،مسولینی سے فرانکو اور آئزن ہاور سے ٹرمپ تک جنگ انسانی ضمیر کے مقابل طاقت کا ذلت آمیز مظہر رہی ہے۔ اس میں روشنی کی کرن صرف یہ ہے کہ کوئی جنگ نیک نامی کے درجے کو نہیں پہنچ سکی اور انسانی ضمیر نے ہمیشہ جنگ کی مزاحمت کی ہے۔ اس مزاحمت میں عورتوں کا کردار انسانی تاریخ کا روشن باب ہے۔ 6اپریل 1917کو امریکی صدر ووڈروولسن نے پہلی عالمی جنگ میں شرکت کے لیے کانگریس سے رجوع کیا تو امریکی ایوان نمائندگان میں منتخب ہونے والی پہلی امریکی خاتون جینیٹ رینکن نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ رینکن نے کہا تھا۔ ’تاریخ انسانی میں پہلی بار کسی عورت کو جنگ پر رائے دینے کا موقع ملا اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے جنگ کی مخالفت کی‘۔ رینکن کا یہ اعلان اس تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ پوری تاریخ میں عورتوں کی بے حرمتی جنگ کا ہتھیار رہی ہے۔
اگست 1892ءمیں ڈائنامائٹ کے موجد الفریڈ نوبیل کی دوست لیڈی برتھا جنگ مخالف اجلاس میں شرکت کے بعد اس سے ملنے آئی تو نوبیل نے کہا ’میری ایجاد تمہاری مجلسوں سے پہلے جنگ ختم کر دے گی۔ جس روز دو فوجی دستوں نے پلک جھپکتے میں بارود سے ایک دوسرے کو ملیامیٹ کیا تو انسان دہشت زدہ ہو کر جنگوں سے تائب ہو جائینگے‘۔ الفریڈ نوبیل کی یہ رائے خوش فہمی پر مبنی تھی۔ 1914کے موسم بہار میں ویانا کا ایک نوجوان مصنف اسٹیفن زیوگ فرانس کے ایک تھیٹر گھر میں فلم دیکھ رہا تھا۔ اچانک کسی تکنیکی خرابی سے اسکرین پر جرمنی کے شہنشاہ ولہلم دوم کی تصویر نمودار ہوئی۔ لمحوں میں تمام تماشائی عورتوں اور بچوں سمیت نفرت انگیز نعرے لگاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔اسٹیفن زیوگ خوفزدہ ہو گیا۔ اسے پہلی بار معلوم ہوا کہ جنگی جنون میں اچھے بھلے انسان کس پاگل پن پر اتر آتے ہیں۔ بعدازاں جنگ میں اسٹیفن زیوگ کو ایک ایسی گاڑی میں سفر کرنا پڑا جس میں درجنوں زندہ اور مردہ فوجی لکڑیوں کی طرح تلے اوپر رکھے تھے۔ گاڑی میں دوائوں ، گلے سڑے زخموں اور فضلے کی بدبو پھیلی تھی۔ وہاں موجود ڈاکٹر کے پاس نہ کوئی دوا تھی اور نہ زخموں کو صاف کرنے کے لئے پانی۔ اسٹیفن زیوگ نے ویانا واپس پہنچ کر ’نو ایکٹ‘ کا ایک ڈرامہ ’یرمیاہ ‘ لکھا۔ یہ تمثیل جنگ مخالف شاہکار تھی۔ اسٹیفن زیوگ کا کہنا تھا کہ جنگ میں مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ میرا حقیقی دشمن وہ فیصلہ ساز ہے جو موت اور تکلیف سے بہت دور بیٹھا جعلی بہادری کے قصے گھڑ کے دوسروں کو موت کے منہ میں بھیجتا ہے۔ اس میں سیاسی اور عسکری رہنمائو ں کی کوئی تمیز نہیں۔ دونوں بے ضمیر ہیںپر فتح کے نعرے بیچتے ہیںاور ان کی پشت پر کرائے کے قلم فروش جھوٹے قومی وقار کے نام پر انسانی آلام کی بدنما تصویر پر خوش نما نعروں کا پردہ ڈالتے ہیں۔ اسٹیفن زیوگ کے ڈرامے کا آخری مکالمہ یہ تھا۔ ’کوئی جنگ مقدس نہیں ہوتی۔ کوئی موت مقدس نہیں ہوتی، صر ف انسان کی زندگی مقدس ہے‘۔ جرمن مصنف ایرک ماریا ریمارک کا 1929 میں شائع ہونے والا ناول All Quiet on the Western Frontتو جنگ مخالف ادب کا شاہکار ہے ۔ اس ناول کا پیغام اس قدر توانا ہے کہ اسے متعدد ممالک میں نذر آتش کیا گیا۔ اسی روایت میں ہدایت کار اسٹینلے کیوبرک کی 1957 میں بننے والی فلم Paths of Gloryجنگی جنون کے خلاف طاقتور پیغام کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس فلم میں کرک ڈوگلس نے غالباً اپنی زندگی کا بہترین کردار ادا کیا تھا۔ پاکستانی ادیب اجمل کمال نے جاپانی مصنفہ ساکائے تسوبوئی کا ناول ’چوبیس آنکھیں‘ اردو میں ترجمہ کر رکھا ہے۔ یہ چند اشارے ان باضمیر دماغوں کیلئے ہیں جو جنگ کی المناک حقیقت کو جاننا چاہتے ہیں ۔ چونکہ آج 7 اپریل 2026 ء ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مکمل تباہی کے الٹی میٹم میں چند گھنٹے باقی ہیں۔