سقراط……
پرانی کتابوں کے بازار میں اچانک سقراط سے ملاقات ہوگئی۔
ہم دونوں نے دودھ پتی چائے آرڈر کی، اور گپ شپ کرنے لگے۔
’’آپ چاہتے تھے فلسفی ملک کا سربراہ ہو‘‘۔ میں نے شرارت سے کہا۔
کیا اب بھی اس خواہش ہر قائم ہیں؟
قطعی نہیں۔ سقراط نے سرد آہ بھری۔
اب فلسفیوں کا نہیں، فنکاروں کا دور ہے،
جو اپنی تقریروں میں لاحاصل لطیفے سناتے ہیں،
اور ٹویٹ کر کے جنگیں چھیڑ دیتے ہیں۔
میں نے کہا: گویا آپ اپنے افکار سے تائب ہوئے؟
’’میں بس ایک بات جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا‘‘
یہ کہہ کر سقراط نے چائے کا آخری گھونٹ بھرا،
اور بل دیئے بغیر چلتا بنا۔