• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم ہاؤسنگ فنانس اسکیم میں سنگین آئینی سقم، قانونی رکاوٹ کا سامنا ہوسکتا ہے

انصار عباسی

اسلام آباد :…حکومت کی جانب سے حال ہی میں اعلان کردہ 3.2؍ کھرب روپے کی ہائوسنگ فنانس اسکیم میں ایک سنگین آئینی سقم موجود ہے کیونکہ اس اس اسکیم میں سود پر مبنی قرضہ جات دینے کی بات کی گئی ہے جبکہ پاکستان کے مالی نظام سے سود کے خاتمے کیلئے یکم جنوری 2028ء کی لازمی آئینی ڈیڈلائن موجود ہے۔ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ جب اس اسکیم کی ساخت اور مدت کو آئینی تقاضے کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تضاد واضح ہو جاتا ہے۔ حکومت نے پانچ سالہ فنانسنگ منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت پہلے سال میں پچاس ہزار گھروں کیلئے 321؍ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ مجموعی لاگت پانچ سال میں 3.2؍ کھرب روپے ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سود پر مبنی نئے قرضے 2028ء کے بعد بھی جاری رہیں گے، جو سود کے خاتمے کیلئے مقررہ آئینی ڈیڈ لائن سے براہِ راست متصادم ہے۔ مزید یہ کہ اس اسکیم کے تحت ہر قرض کی ادائیگی کی مدت 20؍ سال مقرر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 2028ء کے قریب یا اس کے بعد جاری کیے جانے والے قرضے بھی دہائیوں تک سود پر مبنی ادائیگیوں سے منسلک رہیں گے۔ یوں یہ اسکیم عملاً سودی مالیات کو مقررہ مدت سے کہیں آگے تک جاری رکھتی ہے، جس سے آئین اور اس کی روح دونوں کے ساتھ ہم آہنگی پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ یہ مسئلہ اسکیم کے ڈھانچے کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے، جس کے تحت پہلے 10؍ سال کیلئے 5؍ فیصد مقررہ مارک اپ رکھا گیا ہے، جس کے بعد مارکیٹ کی بنیاد پر شرح لاگو ہوں گی۔ اس سے نہ صرف سودی بینکاری کا تسلسل برقرار رہتا ہے بلکہ اس کا دائرہ بھی وسیع ہوتا ہے، حالانکہ ریاست آئینی طور پر اسے ختم کرنے کی پابند ہے۔ ذرائع کے مطابق، ہائوسنگ قرض اسکیم سے متعلق اس نہایت اہم معاملے پر غور نہیں کیا گیا۔ دی نیوز نے اس حوالے سے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ سے رابطہ کیا، تاہم وہ تبصرے کیلئے دستیاب نہ تھے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز ’’اپنا گھر پروگرام‘‘ کا افتتاح کیا، جو پانچ سالہ منصوبہ ہے جس کے تحت ملک بھر میں پانچ لاکھ گھروں کی فنانسنگ کی جائے گی۔ اس اسکیم کے تحت ایک کروڑ روپے تک کے قرضے فراہم کیے جائیں گے، جو 20؍ سال میں قابل ادا ہوں گے۔ یہ پروگرام کم آمدنی والے افراد کو 10؍ مرلے تک کے پلاٹس پر گھر تعمیر کرنے میں مدد دینے کے ساتھ تعمیراتی شعبے میں معاشی سرگرمی تیز کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے مرتب کیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں اسحاق ڈار، بینکاروں اور صنعت سے وابستہ نمائندگان سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے اقدام کو ’’ایک مقدس فریضہ‘‘ اور معاشی ترقی کا محرک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم تمام صوبوں کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی نافذ کی جائے گی۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک ایسے پروگراموں کو بلا سود یا شریعت کے مطابق ماڈلز پر ازسرِ نو تشکیل نہیں دیا جاتا، ریاست کی جانب سے طویل المدتی سودی قرضوں کا تسلسل 2028ء کی ڈیڈ لائن کے قریب آنے پر سنگین آئینی چیلنجز کا سامنا کر سکتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید