• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا ایران جنگ بندی کے اعلان پر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، اسٹاک مارکیٹس میں تیزی

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں زبردست مثبت ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے، تیل کی قیمتیں بھی گر گئیں جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں بھی نمایاں تیزی آئی ہے۔

جنگ بندی کے اعلان کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ دونوں فریق طویل مدتی امن معاہدے کی جانب پیش رفت کر رہے ہیں۔ 

عرب میڈیا کے مطابق ایران نے بھی کہا ہے کہ اگر اس پر حملے روکے گئے تو وہ اپنی کارروائیاں بند کر دے گا اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جائے گی۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی سطح کے تیل اور گیس کا تقریباً پانچواں حصہ منتقل ہوتا ہے۔ 

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں ایران پر حملوں کے بعد ایران نے اس راستے کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا جس سے عالمی منڈیاں شدید دباؤ کا شکار ہو گئی تھیں۔

جنگ بندی کی خبر سامنے آنے کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً 16.5 فیصد کم ہو کر 94 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی، سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری سے نکل کر دوبارہ حصص بازار کا رُخ کر لیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ماہرِ مالیات جیمی کاکس کا اس صورتحال سے متعلق کہنا ہے کہ منڈیاں پہلے ہی اس بات کی توقع کر رہی تھیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران تنازع سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں اور حالیہ اعلان اسی سمت اہم پیش رفت ہے۔

ایشیا کی اسٹاک مارکیٹس میں بھی تیزی کے آثار ظاہر ہوئے ہیں جبکہ امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی 10 نکاتی تجویز مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد ہے اور مستقل امن معاہدے کے امکانات مضبوط ہو رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید