انتہا پسند ملک بھارت سے اکثر اوقات ہی حیرت انگیز اور عجیب خبریں سامنے آتی رہتی ہیں جنہیں جان کر انسانی عقل دنگ اور بھارتیوں کی جہالت پر افسوس کرنے کا دل کرتا ہے۔
ایسی ہی ایک مثال بھارتی نشریاتی اداراے این ڈی ٹی وی نے شائع کی ہے جس میں بظاہر پڑھے لکھے مگر شدت پسند بھارتی اپنے مذہبی عقائد کو سائنس کے ذریعے ثابت کرنے پر تلے نظر آ رہے ہیں۔
انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی رورکی کے محققین نے ایک تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ گاؤ موتر میں موجود بعض حیاتیاتی مرکبات چکن گونیا وائرس کے خلاف مؤثر ثابت ہوئے ہیں، یہ تحقیق سائنسی جریدے ایگریکلچر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں شائع ہوئی ہے۔
تحقیق کے مطابق لیبارٹری میں چکن گونیا وائرس سے متاثرہ خلیات پر تجربات کے دوران گاؤ موتر کی 2 فیصد مقدار سے وائرس کی سطح میں تقریباً 90 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ 4 فیصد مقدار کے استعمال سے وائرس میں 99 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
محققین نے کیمیائی تجزیے اور کمپیوٹر ماڈلنگ کے ذریعے معلوم کیا کہ بینزوئک تیزاب (ایسڈ)، ہپیورک تیزاب اور اولیئک تیزاب ایسے مرکبات ہیں جو وائرس کی افزائش کے لیے ضروری سیلز کو متاثر کر سکتے ہیں۔
تحقیق میں گاؤ موتر کو کلونجی سے حاصل ہونے والے تھائموکوئنون اور کالی مرچ سے حاصل ہونے والے پائپرین کے ساتھ ملا کر بھی آزمایا گیا۔
اس مرکب نے لیبارٹری کے ماحول میں 99.85 فیصد وائرس ختم کرنے کی صلاحیت ظاہر کی۔
بھارتی تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ نتائج مستقبل میں کم لاگت اینٹی وائرل ادویات کی تیاری کے لیے بنیاد فراہم کر سکتے ہیں تاہم انسانی استعمال سے قبل مزید طبی آزمائشیں ضروری ہیں۔
بھارتی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس تحقیق کی بنیاد پر چکن گونیا کے علاج کے لیے گاؤ موتر استعمال کرنے کی سفارش نہیں کی گئی اور نہ ہی اسے موجودہ طبی علاج کا متبادل قرار دیا گیا ہے۔