ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تیل کی سپلائی شدید دباؤ کا شکار رہی تاہم تیل کی قیمتیں ماضی کے بڑے بحرانوں کی طرح غیر معمولی حد تک نہیں بڑھ سکیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ چین کی حکمتِ عملی تھی۔
بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق چین نے برسوں سے جمع کیے گئے اپنے بڑے تیل کے ذخائر استعمال کیے اور خام تیل کی درآمدات میں تقریباً 3 ملین بیرل یومیہ کمی کر دی۔
اس اقدام سے عالمی منڈی میں طلب کم ہوئی اور قیمتوں پر دباؤ محدود رہا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین کے پاس 1 ارب سے زائد بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں جبکہ ملک میں برقی اور ہائبرڈ گاڑیوں کے بڑھتے استعمال نے بھی تیل کی طلب میں نمایاں کمی پیدا کی ہے۔
رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق اگر مستقبل میں تیل کی قیمتیں مزید کم ہوئیں تو چین دوبارہ بڑی مقدار میں خریداری شروع کر سکتا ہے جس سے عالمی منڈی کی سمت تبدیل ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب عالمی تیل منڈی صرف ریاض، ماسکو یا واشنگٹن کے فیصلوں سے متاثر نہیں ہوتی بلکہ بیجنگ کی خریداری اور ذخیرہ کاری کی حکمتِ عملی بھی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے لیے تیل کی کم قیمتیں وقتی ریلیف کا باعث بنی ہیں تاہم نئی دہلی کو اپنی تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔