بھارتی ریاست گجرات کی کرائم برانچ نے 2017ء کے ایک پرانے گمشدگی کے کیس میں حادثہ سمجھے جانے والے ایک واقعے کو منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا قتل قرار دے دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 25 جون 2017ء کو مینش دینیسبھائی سولنکی اپنی اہلیہ کوملبین سولنکی کو شہر کی سیر کے بہانے ساتھ لے گیا تھا، دن بھر مختلف مقامات پر گھومنے کے بعد رات گئے وہ اسے سبھرمتی ریور فرنٹ لے گیا۔
تحقیقات کے مطابق وہاں گفتگو کے دوران مینش نے موقع پا کر اپنی اہلیہ کو اچانک اٹھا کر دریا میں پھینک دیا جس کے باعث اس کی موت واقع ہو گئی۔
واقعے کے بعد اگلے دن ملزم نے کالوپور پولیس اسٹیشن میں جا کر گمشدگی کی جھوٹی رپورٹ درج کروائی تاکہ جرم کو چھپایا جا سکے۔
ابتدائی طور پر اس واقعے کو حادثاتی موت سمجھا گیا اور لاش ملنے کے بعد کیس اسی زاویے سے بند کر دیا گیا۔
تقریباً 9 سال بعد پولیس نے تکنیکی شواہد اور پرانے گواہوں کے بیانات کی دوبارہ جانچ کی جس سے حقیقت سامنے آ گئی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ شوہر اور اہلیہ کے درمیان شادی کے صرف چند ماہ بعد سے ہی گھریلو تنازعات چل رہے تھے۔
پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ مینش دینیسبھائی سولنکی کا پہلے سے بھی مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔
پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ تھانے کے حوالے کر دیا ہے۔