• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یونان کا 15 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان

یونان کے وزیراعظم کیریاکوس میتسوتاکیس نے اعلان کیا ہے کہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر یکم جنوری 2027ء سے پابندی عائد کر دی جائے گی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یونانی وزیراعظم نے ٹک ٹاک پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ہم نے ایک مشکل مگر ضروری قدم اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کر رہے ہیں۔  

انہوں نے مزید کہا کہ یونان دنیا کے ان اولین ممالک میں شامل ہوگا جو اس نوعیت کا اقدام کر رہے ہیں۔

انہوں نے یورپی یونین پر بھی زور دیا کہ وہ بھی اس کی پیروی کرے۔

کیریاکوس متسوتاکس نے یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے یہ اعلان سوشل میڈیا کے ذریعے اس لیے کیا تاکہ وہ براہِ راست نوجوانوں اور بچوں سے بات کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ میں سے کچھ اس پر ناراض ہوں گے لیکن ہمارا مقصد آپ کو ٹیکنالوجی سے دور رکھنا نہیں بلکہ ان ایپس کی لت کا مقابلہ کرنا ہے جو آپ کی معصومیت اور آزادی کو متاثر کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سائنس سے واضح ہے کہ جب کوئی بچہ گھنٹوں اسکرین کے سامنے رہتا ہے تو اس کا دماغ آرام نہیں کر پاتا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل دسمبر میں آسٹریلیا 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کر کے دنیا کا پہلا ملک بن چکا ہے۔

اسی طرح انڈونیشیا نے مارچ میں 16 سال سے کم عمر صارفین کے لیے سوشل میڈیا پابندی نافذ کرنا شروع کی اور قانون پر عملدرآمد نہ کرنے پر گوگل اور میٹا کو طلبی کے نوٹس جاری کیے۔

آسٹریا نے گزشتہ ماہ اعلان کیا کہ وہ جلد 14 سال تک کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرے گا، جبکہ اسپین اور ڈنمارک نے بھی سوشل نیٹ ورکس کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے کے ارادے ظاہر کیے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید