ذلت، بے عزتی میں صدیاں بیت گئیں ، 10 نسلیں غلامی اور ذلت میں لقمہ اجل بنیں ، خواب و خیال میں نہ تھا کہ2 ارب مسلمان اب کبھی عزت و تکریم سے مستفید ہو پائیں گے ۔ بروز بدھ ارضِ پاکستان کا ماحول دیدنی ،ہربندہ دوسرے بندے سے بغل گیر، مبارک سلامت کے ڈونگرے برسا رہا تھا ،جیسے 25 کروڑ پاکستانی ابھی ابھی ایرانی سرحدوں سے واپس آ ئے ہوں ۔ اے عظیم ملک ایران ! تمہارا یہ احسان کہ مسلمان ممالک کی سرحدیں تحلیل ہو گئیں ، فرقے اپنا وجود کھو بیٹھے سب یکجان ایران پر قربان ہو گئے ۔
خوشی دُگنی ، جنگ بندی ضرور ، آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقراریعنی رزم ہو یا بزم اب آئندہ جو جہاز گزرے گا 2ملین ڈالر نقد جمع کروائے گا ۔ مطلب صاف ظاہر کہ ہر سال 20 بلین ڈالر کی کمائی ایران کی ہو گی ۔ خوشی یہ بھی کہ ابھی جنگ ختم نہیں کہ قطر اور عمان نے امریکی افواج کو حکمِ سفر دے دیا ، امریکی بحری ففتھ فلیٹ جنگ شروع ہوتے ہی بحرین ہیڈکوارٹر خالی کرکے خلیج فارس سے دور دراز بحرہند میںہزاروں میل دور پناہ لینے پر مجبور ہو گیا جبکہ سعودی عرب نے کمال مہارت سے امریکیوں کو ایرانی میزائیلوں اور اڈوں کا ترنوالہ بنایا ۔ایک خوشی یا حاصل حصول کہ امریکہ کے روایتی ہتھیار 13000 حملے ایران کا کیا بگاڑ پائے ، ایران نے اسرائیل کو سود کیساتھ دُگنا واپس کیا ۔ ڈیوڈ سلینگ اور ARROW3 جنہوں نے اسرائیل کے لوہے کے گنبد ( IRON DOME ) کو چھلنی کرکے رکھ دیا ۔ خرم شہر ، فتح 2، سجیل ، عماد ، کلائڈ وہیکل ، کروز میزائیل آزادانہ برستے رہے ، حتیٰ کہ اسرائیل کے نیوکلیئر ذخیرے سے چند سو میٹر پر نشانہ بنایا ، اسرائیل اگر تباہ نہیں ہوا تو ایران کا گیم پلان ہی یہی تھا کہ جنگ کو پھیلانا نہیں تھا ، ایرانی حکمت عملی سے حدود و قیود میں رکھنا تھا ۔ عارضی جنگ بندی ضرور ، اسرائیل نے اسے قبول نہیں کیا۔ یہ صدر ٹرمپ پر منحصر کہ وہ اسرائیل کو لگام دے پاتے ہیں یا نہیں ، وقت بتائے گا کہ عارضی جنگ بندی کیسے قائم رہتی ،11اپریل کو امریکی نائب صدر ڈی جے وینس ، اور اسٹیو وٹکاف کیساتھ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی ساتھیوں سمیت اسلام آباد میں ہونگے ۔ 7فروری کو صدر ٹرمپ کے پاس محدود آپشنز تھے ، ہزیمتوں میں سے ایک کو چُننا تھا ۔ فوجی شکست قبول کریں یا جنگ کو جاری رکھ کر تاریخی ذلت کو امریکہ کے ماتھے کا جھومر بنائیں ۔ صدر ٹرمپ نے فوجی شکست کا انتخاب کیا ۔
دنیا میں تین بڑی طاقتیں امریکہ، چین اور روس بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ جنگ بندی ممکن ہوئی ، طاقتور چین اور روس کا کردار اہم وجہ بنا ۔ دونوں طاقتوں نے اپنا آپ دکھایا اور اسرائیل اور امریکہ کو جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کی وارننگ دی۔
یقینا ً چینی صدر شی پنگ اور روسی صدر پیوٹن نے اندرون خانہ صدر ٹرمپ کو تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنے پر اکسایا ہو گا ۔ ساتھ ہی ایران کو آمادہ کیا ہوگا کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی قبول کرے اور امن فریم ورک پر بات چیت شروع ہو ۔ خوش آئند اتنا کہ مستقل امن قائم ہواتو ضامن چین اور روس ہوں گے۔حتمی رائے کہ آنےوالے وقتوں میں مغربی ایشیا کاسرخیل ایران ہوگا ۔
ایران نے یہ جنگ جیتی کیسے ، جبکہ اسرائیل اور امریکہ نے یہ جنگ کیسے ہاری ؟ دور کی کوڑی لانا اور اپنا فلسفہ بگھارنا ضروری ، چند عرصہ سے چین ، روس ، پاکستان ، ترکی ، ایران ، سعودی عرب ایک صفحہ پر ہیں ۔
تجزیہ کرلیں کہ ایران نے یہ جنگ کیسے جیتی ۔ پچھلے 4 کالموں میں صراحت سے لکھا ، ایران کی طاقت اسکی بنیادی حکمت عملی میں پوشیدہ کہ ایران کیلئے یہ بقا کی جنگ تھی ۔ ایران کا پہلا ہتھیارآناً فاناً آبنائے ہرمز پر قبضہ ، بند کرکے ایک دنیا کو22 فیصدتیل اور دیگر لوازمات سے محروم کر دیا ۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے صدر ٹرمپ کو ذہنی توازن سے محروم کر دیا ۔ سوشل میڈیا پر بیان آیا کہ وہ ایرانی پلوں اور بجلی گھروں پر بمباری کریں گے اور نیویارک ٹائم کے مطابق پوری ایرانی تہذیب کو 7 اپریل کو 12بجے سے پہلے ملبہ کا ڈھیر بنا دیں گے ، تہذیب مٹادیں گے ۔ خیال تھا کہ ایرانی خوفزدہ ہو جائیں گے ۔ دھمکیوں کا لامتناہی سلسلہ غلیظ زبان اور گالم گلوچ تک آن پہنچا ۔ 7 اپریل کو پتھر کے زمانے میں پہنچانا عزم صمیم بنایا تو تاثر کہ ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال ممکن تھا ۔
قوی اُمید تھی 19 کروڑ ایرانی ٹانگیں لڑکھڑا کر ، مارے ڈر کے پورا ایران اوندھے منہ گر پڑے گا ۔ بھلا کس تہذیب سے واسطہ ،خوفزدہ ہونے کی بجائے ایرانی نوجوان ، مرد اور خواتین بڑی تعداد میں گھروں سے باہر ہر بڑے پُل اور ہر بڑے بجلی گھر جانب اُمڈ آئے ۔ انسانی جانوں کی زنجیر بنائی ، بموں کے منتظر تھے ۔ انسانی تاریخ نے ایسا منظر شاید پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ صدر ٹرمپ نے جب انسانی زنجیروں کے VISUAL دیکھے تو ہوش ٹھکانے ، فیلڈ مارشل عاصم منیر کو فون کیا اور فوری جنگ بندی کے بندوبست کی درخواست کر ڈالی ، اپنی شکست تسلیم کر لی ۔
یقین کرنا ہوگا کہ ایران نے یہ جنگ کیسے جیتی کہ برسوں قومی تعلیم کا حصہ بنیں ۔ حکمت عملی کے لحاظ سے ، ایران نے تین سطحوں پر غیر متناسب (ASYMMETRICAL) جنگ کی بھرپور تیاری کر رکھی ہے یعنی اسٹرٹیجک ، آپریشنل اور ٹیکٹیکل ہر تین لیول کی تیاری تھی ۔ اسٹرٹیجک سطح پر ، ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے اندر موجود خطرات کی نشاندہی کر رکھی تھی ۔ آپریشنل سطح پر ، اس نے جی سی سی کی قومی سرزمین پر امریکی اڈوں کو لاحق خطرات کی نقشہ سازی کی ۔ حکمت عملی کی سطح پر ، ایران نے اسلحہ ، میزائل ، ڈرونز کی مقامی پیداوار میں خود کفالت کو یقینی بنا رکھا تھا ۔ چین اور روس کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔چین کے 3 BeiDou Constellation System جیسی جدید ٹیکنالوجی سے لیس تھا ۔ یہ کثیر سطحی تیاری اسرائیلی تیاری سے بالکل متضاد تھی ، جسکی جنگی حکمت عملی کا بہت زیادہ انحصار امریکی حمایت پر تھا اور امریکہ صرف تکنیکی جنگ سے واقف تھا ۔ صدر ٹرمپ کا خیال کہ 28 فروری کو جیسے ہزاروں حملے ہونگے 2 دن بعد ایرانی حکومت ختم اور امریکہ کا تسلط قائم ہو جائیگا ۔ آبنائے ہرمز امریکہ کے قبضے میں اور ایرانی تیل وینزویلا کے تیل پر سونے پر سہاگہ ۔ ٹیکٹیکل جنگ ایک مسلسل، لمبی اور تھکا دینے والی جنگ ، کئی مہینوں کا تسلسل درکار تھا ، امریکہ تیار نہیں تھا ۔ چنانچہ صدر ٹرمپ کے پاس جنگ ختم کرنے اور دس نکاتی امن منصوبہ قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ، امت مسلمہ ایران کی ممنون کہ زمینی خدا کو نیچا دکھا دیا ۔
بالفرض محال، زمینی جنگ تک نوبت پہنچتی تو امریکہ کے پاس پورے خطہ میں 70\80 ہزار فوجی جبکہ ایران کے پاس دس لاکھ سربہ کف فوجیوں کا جم غفیر اورپشت پر ایک کروڑ ایرانی سرکٹانے کیلئے بے قرار ، بہت بڑا فرق تھا ۔ ایران جیت گیا ، امریکہ ہار گیا ۔