• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز محدود پیمانے پر کھولنے کا اعلان، ایران کی سخت شرائط برقرار

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے تاہم اس کے ساتھ سخت شرائط بھی عائد کر دی ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ روزانہ صرف 15 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی اور ہر جہاز کو ایران کی پیشگی منظوری لینا ہو گی۔

یہ نیا نظام پاسدارانِ انقلاب کی نگرانی میں نافذ کیا گیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ صورتِ حال جنگ سے پہلے جیسی نہیں ہو گی۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے اس کے بیرونِ ملک منجمد اثاثے 2 ہفتوں کے اندر بحال کرنا ہوں گے۔

عرب میڈیا کے مطابق ایران کی یہ شرط معاہدے کی اہم ضمانت ہے۔

مزید برآں ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے باضابطہ تسلیم کیا جائے، بصورتِ دیگر وہ دوبارہ جنگ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکا پر بھی زور دیا ہے کہ وہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہ کرے۔

دوسری جانب یورینیئم افزودگی کے معاملے پر ایران نے معاہدے کی پاسداری جاری رکھنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان یہ جنگ بندی 7 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد عمل میں آئی جب ایران کی تجاویز کو مذاکرات کی بنیاد بنایا گیا تاہم لبنان کا معاملہ اس معاہدے میں تنازع کا باعث بن رہا ہے۔

ایران چاہتا ہے کہ لبنان کو بھی معاہدے میں شامل کیا جائے جبکہ امریکا اور اسرائیل اس سے انکار کر رہے ہیں، اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری ہیں۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان پر حملے نہ رکے تو وہ دوبارہ آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے۔

امریکا ایران کے درمیان تاریخی مذاکرات آج ہوں گے

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد امن معاہدے پر تاریخی مذاکرات آج ہونے جا رہے ہیں۔

دنیا بھر کی نظریں اسلام آباد کی جانب ہیں جبکہ غیر ملکی وفود کی آمد شروع ہوگئی ہے، وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، ریڈ زون سیل اور جڑواں شہروں میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

شاہراہوں پر پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز اور پاک فوج کے اہلکار جبکہ جڑواں شہروں کے داخلی راستوں پر وفاقی پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید