• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت کو ایران جنگ میں امن کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے: ششی تھرور

ششی تھرور—فائل فوٹو
ششی تھرور—فائل فوٹو

بھارتی سیاستدان اور انڈین نیشنل کانگریس کے رکن ششی تھرور نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے جاری بحران میں پاکستان کا ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آنا نئی دہلی کے لیے ایک سنجیدہ اور مثبت ردِعمل کا متقاضی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو ایران جنگ کے تناظر میں امن کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے، چاہے مذاکرات میں سہولت کاری کوئی بھی کرے۔

ششی تھرور نے پاکستان کی عسکری قیادت اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلق کو ایک عملی حقیقت قرار دیا جو روایتی بیوروکریسی سے ہٹ کر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ اگر پاکستان اس عمل میں کامیاب ہوتا ہے تو بھارت کو سب سے پہلے اس کامیابی کا خیر مقدم کرنا چاہیے کیونکہ ایٹمی صلاحیت کے حامل خطے میں استحکام سب کے مفاد میں ہے۔

 انہوں نے بھارتی پالیسی سازوں کو خبردار کیا کہ وہ اس پیش رفت پر اسٹریٹیجک بے چینی یا تنقید سے گریز کریں، کیونکہ کسی بھی ناکام ثالثی کا خمیازہ پورے خطے کو بھگتنا پڑے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ کیونکہ بھارت بھی امن کا خواہاں ہے، دنیا میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور بھارت کو محض تماشائی بن کر نہیں بیٹھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اس کا احترام کیا جانا چاہیے، پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے، اس لیے کسی بھی علاقائی جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ سکتے ہیں، اس لیے پاکستان کا اس تنازع کو ختم کرنے میں دلچسپی لینا فطری ہے۔

ششی تھرور نے یہ بھی کہا کہ جنگل کا قانون کسی کے مفاد میں نہیں کیونکہ اس سے تمام ممالک طاقت ور قوتوں کے رحم و کرم پر آ سکتے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید