امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جاری جنگ پر اب تک 37.5 ارب امریکی ڈالرز خرچ ہو چکے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین نے 1.5 ٹریلین ڈالرز کے دفاعی بجٹ کی درخواست کی ہے، جس میں ایران جنگ کے لیے تقریباً 70 ارب ڈالرز مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پیٹ ہیگسیتھ نے گزشتہ روز سینیٹ کی تخصیصی کمیٹی کے اجلاس کے دوران اس رقم کی تصدیق کی۔
اجلاس کے دوران پیٹ ہیگسیتھ اور جنرل ڈین کین 1.5 ٹریلین ڈالرز کے امریکی دفاعی بجٹ کی اپنی درخواست پر سوالات کا سامنا کر رہے تھے۔
ڈیمو کریٹک سینیٹر ڈک ڈربن کے سوال کے جواب میں ہیگسیتھ نے کہا کہ آج کی تاریخ تک ہمارے پاس موجود تخمینہ 37.5 ارب ڈالرز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس رقم میں ستمبر کے اختتام تک جاری رہنے والے بعض آپریشنز اور دیکھ بھال (آپریشنز اینڈ مینٹیننس) کے اخراجات بھی شامل ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ تخمینہ دیگر اندازوں کے مقابلے میں خاصا کم ہے، خصوصاً ان تخمینوں کے مقابلے میں جن میں امریکی صارفین پر پڑنے والے بالواسطہ معاشی اثرات بھی شامل کیے گئے، مثال کے طور پر موڈیز اینالیٹکس نے توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سمیت دیگر عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس جنگ کی امریکی معیشت پر مجموعی لاگت 150 ارب ڈالرز تک ہونے کا اندازہ لگایا ہے۔
واضح رہے کہ یہ تازہ تخمینہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے مئی میں جاری کیے گئے 29 ارب ڈالرز کے سابقہ تخمینے سے تقریباً 8 ارب ڈالرز زیادہ ہے۔