امریکا نے ایران پر مسلسل 11 ویں روز فضائی حملے مکمل کر لیے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے فوجی آپریشن مراکز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹک انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔
بیان کے مطابق گزشتہ 3 ماہ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے کیے، جو علاقائی اور عالمی تجارت کے لیے 1 نہایت اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔
امریکی فوج کے مطابق کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے بدستور کھلی ہوئی ہے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مئی کے آغاز سے اب تک امریکی افواج نے تقریباً 900 تجارتی جہازوں اور 450 ملین بیرل خام تیل کی محفوظ ترسیل میں معاونت فراہم کی ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا کے ایران پر مسلسل فضائی حملوں کا مقصد ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔