• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم مذاکرات کے لیے موجود ہیں لیکن امریکیوں پر اعتبار نہیں، ایرانی تجزیہ کار

فوٹو: جیو
فوٹو: جیو

ایران کے معروف تجزیہ کار پروفیسر محمد مرندی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ہم نے بلواسطہ مذاکرات کیے، لیکن امریکا نے سازش کے ذریعے جنگ مسلط کردی۔

اسلام آباد میں جیو نیوز کے نمائندے اعزاز سید سے گفتگو میں مذاکرات اور امریکا کے حوالے سے اپنے نقطہ ء نظر کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس جنگ سے قبل بھی ہم مذاکرات کررہے تھے۔

پروفیسر مرندی کے مطابق عمانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن انہوں نے پھر بھی حملہ کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کوئی بے وقوف نہیں، ہمیں معلوم تھا کہ وہ ایسا کریں گے لیکن ہم نے مذاکرات کیے تاکہ عالمی برادری کو پتہ چلے کہ مسئلہ ایران نہیں اور یہ امریکا ہی تھا جو دغاباز ثابت ہوا۔

پروفیسر مرندی نے مزید کہا کہ اب ہم یہاں ہیں لیکن ہم امریکیوں پر اعتبار نہیں کرتے، انہوں نے اپنے وعدے پر عمل نہیں کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی وزیراعظم نے خصوصی طور پر کہا ہے کہ لبنان جنگ بندی امن معاہدے کا حصہ ہے، ایرانیوں کو پاکستان کے لوگوں سے بہت پیار ہے، ہماری ثقافت، مذہب اور تاریخ مشترکہ ہے۔

پروفیسر مرندی نے کہا کہ ہمارے لیے پاکستان اپنے گھر کے طرح ہے اور ہم یہاں بہت آرام سے ہیں لیکن امریکا ہمارا دوست نہیں، وہ بالکل بد دیانت ہے، پاکستان جتنا بھی مخلص ہو لیکن ہمیں امریکا پر اعتبار نہیں۔

ایران کے معروف تجزیہ کار نے کہا کہ ہم پہلے ہی بہت لچک دکھا چکے ہیں، اب یہ دوسرے فریق پر منحصر ہے کہ وہ اپنے عہد کو وفا کرے۔ اگر کوئی عزم کیا جاتا ہے تو اس پر عمل درآمد دونوں فریقین کی زمہ داری ہوتی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید