اسلام آباد مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوگئے۔ مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ پاکستان اسحق ڈار کے اخباری بیانات اورگفتگو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کسی صورت ناکام نہیں بلکہ کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوئے ہیں۔ قوی امکان ہے کہ مذاکرات کا ایک اور راؤنڈ بہت جلد ہوگا ۔ بہر طور پاکستان اس کڑے امتحان میں سرخرو ہو کر نکلا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان سے واپس روانہ ہوتے ہوئے جو بیان دیا وہ قابل غور ہےکہ اکیس گھنٹے کے طویل مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ایران جب تک ایٹمی پروگرام بند کرنے کا کوئی واضح لائحہ عمل نہیں دے گا بات آگے نہیں بڑھ سکتی،ایرانی حکام کو اس بارے سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ ان کی گفتگو میں کہیں بھی مذاکرات کی ناکامی کا شائبہ تک نظر نہیںآیابلکہ فریقین کے تما م نکات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی جھلک نظر آتی ہے۔ چند ایک کے سوا تقریباً تمام امور پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایران امریکہ کے درمیان گیارہ اہم ترین ایشوزپراتفاق اور چار پر اختلاف رائے موجود ہے جن میں ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام، اثاثوں کی واپسی، آبنائے ہرمز کو پہلے کی طرح محفوظ آبی گزر گاہ بنانا اور اس پر ایران کا کنٹرول برقرار رہنا ، اسرائیلی جارحیت کو مستقل روکنے کی ضمانتیں اور حزب اللہ کو جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنا ایسے بنیادی اور سنجیدہ ایشوز ہیں جن پر فریقین کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ امریکہ ان ایشوز کو اپنی ریڈ لائنز قرار دیتا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق مذاکرات کے دوران کئی ایشوز پر اتفاق رائے ہوا۔ دو تین ایشوز پر اختلاف ہے جسکے باعث ڈیل نہیں ہوسکی۔ ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایک ملاقات میں ڈیل کی توقع نہیں کی جانی چاہئے۔ دونوں فریق کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئے تھے دیگر امور پر نقطہ نظر میں اختلاف ہے۔ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ مذاکرات کا یہ دور اس ایک سال میں طویل ترین تھا جو چوبیس ،پچیس گھنٹے جاری رہا۔ کسی کو یہ توقع نہیں ہونی چاہئے تھی کہ ہم ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔ اس بیان کا بھی جائزہ لیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ مذاکرات ابھی جاری ہیں۔ فریقین کو مزید صلاح مشورے کا موقع دیا گیاہے۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ مذاکرات کا پہلا راؤنڈ اسلام آباد میں بخیر وخوبی انجام پذیر ہوا۔ اس ضمن میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی انتھک کوششوں کی دنیا بھر میں ستائش کی جارہی ہے اور تمام ممالک کی خواہش ہے کہ مذاکرات کسی نیک انجام کو پہنچیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنی ریڈ لائنز ایران کے سامنے رکھ کر ایرانی مذاکرات کاروں کو اپنی قیادت سے امریکی تجاویز پر تبادلہ خیال کا موقع دیا ہے۔ مذاکرات کے اختتام پر فریقین اور ثالث کاروں کے بیانات حوصلہ افزا ہیں۔ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ بات آگے بڑھے گی۔ ان مذاکرات کا کوئی حتمی نتیجہ ضرور نکل آئیگا۔ نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحق ڈار نے مذاکراتی عمل میں شرکت کرنے پر امریکہ، ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے وزیراعظم شہباز کی درخواست پر مثبت رد عمل دیا ہے۔ دونوں وفود کے درمیان جامع اور تعمیری مذاکرات کے متعدد دور ہوئے جس میں ان کے علاوہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بطور ثالث معاونت کی۔ پاکستان امن کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کرتا رہے گا۔ امریکہ ایران کشیدہ تعلقات کی ایک پوری تاریخ ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان 1979 ءکے بعد اعلیٰ ترین سطح پر براہ راست مذاکرات ایک تاریخی لمحہ ہے۔ ان مذاکرات کے اختتام پر کہا جاسکتا ہے کہ فریقین ایک قدم آگے بڑھے ہیں اور برف پگھل رہی ہے اور مذاکرات کی کامیابی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ کسی بھی فریق نے ابھی تک کوئی غیرذمہ دارانہ بیان جاری نہیں کیا۔ کسی نے دھمکی یا اشتعال انگیزی سے کام نہیں لیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی پاکستان سے رخصت ہوتے وقت یہ کہہ گئے ہیں کہ چند ایک ایشوز ہیں جن پر ایرانی قیادت کو سنجیدگی سے جواب دینا چاہئے۔ مذاکرات کا اگلا راؤنڈ کب ہوگا؟ امریکی صدر ٹرمپ آئندہ ماہ کے وسط میں چین کا دورہ کرنیوالے ہیں یقیناًاس دورے کا بنیادی ایجنڈا امریکہ ایران کشیدگی ہی ہوگا۔ اس موقع پر دونوںصدور کے درمیان ملاقاتوں کے بعد اسلام آباد مذاکرات کے اگلے راؤنڈ بارے بڑے بریک تھرو کی توقع ہے۔ اس دوران فریقین کے درمیان جنگ بندی مدت کو دو سے تین ماہ توسیع دیناایک مثبت اور اہم کامیابی قرار دی جاسکتی ہے۔ جہاں تک خطے میں مستقل جنگ بندی کی ضمانتوں کا تعلق ہے اس بارے میں ایران امریکہ کی کسی گارنٹی کو تسلیم کرنے پر ہرگز تیار نہیں۔ کیا روس، چین یہ گارنٹی دے سکتے ہیں یا پاکستان کو خطے میں قیام امن کی گارنٹی دینا ہوگی؟ کیا دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی افواج اور فضائیہ کی سعودی عرب میں تعیناتی اس ضمن میں پہلا قدم ہے؟ سعودی عرب اور قطر کی جانب سے یو اے ای کا قرضہ واپس کرنے کیلئے پانچ ارب ڈالر دینے کی حوصلہ افزا یقین دہانی مستقبل میں پاک سعودی دفاعی معاہدے میں دیگر خلیجی ممالک کی شرکت ایران کے سکیورٹی خدشات ختم کرنے کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جاسکتی ہے کیونکہ ایران کی شرائط میں اہم ترین شرط خطے سے امریکی اڈوں کا خاتمہ اور فوجوں کی واپسی ہے۔