سنہری عقاب جو تقریباً ڈیڑھ صدی سے زائد عرصے سے انگلینڈ کی فضا سے غائب ہیں اب ایک بار پھر واپس آ سکتے ہیں۔
ایک اہم تحقیقی رپورٹ کے بعد برطانوی حکومت نے سنہری عقابوں کی بحالی کے پروگرام کے لیے 10 لاکھ پاؤنڈ فراہم کر دیے۔
ان کی تعداد میں کمی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ بھیڑ پالنے والے کسان اور شکار کے منتظمین انہیں اپنے مویشیوں اور شکار کیے جانے والے پرندوں کے لیے خطرہ سمجھتے تھے، تاہم بعض اوقات یہ پرندے نارتھمبرلینڈ جیسے علاقوں میں دیکھے گئے ہیں، جہاں وہ جنوبی اسکاٹ لینڈ سے سرحد عبور کرتے ہیں، جہاں ان کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
فاریسٹری انگلینڈ کی جانب سے 12 اپریل بروز اتوار شائع ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انگلینڈ اب ایک بار پھر سنہری عقابوں کی آبادی کو سہارا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تحقیق میں 8 ممکنہ ریکوری زونز کی نشاندہی کی گئی ہے، جو زیادہ تر شمالی انگلینڈ میں واقع ہیں، تاہم ان علاقوں میں سنہری عقابوں کی افزائش نسل کی مستحکم آبادی قائم ہونے میں ایک دہائی سے زائد عرصہ لگ سکتا ہے۔
اس تحقیق کے جواب میں ماحولیاتی امور کی سیکریٹری ایما رینولڈز نے انواع کی بحالی کے لیے اضافی 10 لاکھ پاؤنڈ کی منظوری دے دی ہے، تاکہ ایک ایسے پروگرام کی راہ ہموار کی جا سکے جس کے تحت 6 سے 8 ہفتے عمر کے کمسن عقابوں کو ممکنہ طور پر اگلے ہی سال قدرتی ماحول میں چھوڑا جا سکے۔
ایما رینولڈز کا کہنا ہے کہ یہ حکومت ہمارے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار مقامی جنگلی حیات کے تحفظ اور بحالی کے لیے پُرعزم ہے اور اس میں سنہری عقاب جیسے نمایاں انواع کی واپسی بھی شامل ہے۔
جنوبی اسکاٹ لینڈ میں ایک بڑے بحالی منصوبے کے باعث سنہری عقابوں کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے، سیٹلائٹ ٹریکنگ سے معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے بعض منتقل کیے گئے پرندے پہلے ہی سرحد عبور کر کے شمالی انگلینڈ کی جانب پرواز اور نئے علاقوں کی تلاش شروع کر چکے ہیں۔
فاریسٹری انگلینڈ کو امید ہے کہ آئندہ 10 برس میں اسکاٹ لینڈ کے یہ عقاب شمالی انگلینڈ میں باقاعدگی سے دیکھے جا سکیں گے، تاہم انگلینڈ میں ان کی افزائشِ نسل کی مستحکم آبادی قائم ہونے میں اس سے کہیں زیادہ وقت درکار ہو گا۔