سفارت، سیاست اور حکمت نے موجودہ سیٹ اپ کو اب ٹاپ پر بٹھا دیا ہے۔ 8؍فروری کے الیکشن اور پے در پے مخالف جھٹکوں نے شہباز حکومت کی عوام پسندیدگی میں ہمیشہ سے رکاوٹ ڈالے رکھی۔ ایران امریکہ بحران نے شہباز حکومت کو جہاں عالمی مقام دیا ہے، وہاں اندرونی طور پر بھی سیاسی مخالفت تھم سی گئی ہے۔ گوپی ٹی آئی کے یوٹیوبرز حکومتی غلطیاں نکالنے میں ایک بھی دن کا ناغہ نہیں کرتے لیکن اسکے باوجود سیاسی فضا مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ فی الحال ہر کوئی فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کے سفارتی کردار پر رطب اللسان ہے۔ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے بھی ایک دانش مند سیاستدان کے طور پر ریاست اور حکومت کی پالیسیوں کو درست قرار دیا ہے۔ اپوزیشن فوری طور پر کسی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں، اس وقت پی ٹی آئی کے انتہا پسندوں کے حوصلے پست ہوچکے ہیں۔ تیز رفتار حالات نے تقسیم کی سیاست کو بہت پیچھے چھوڑ کر ریاست کو سب سے آگے لاکھڑا کیا ہے۔ ظاہر ہے حکومت ان مخصوص حالات کی وجہ سے اس وقت ٹاپ پر ہے مگر یادرکھیں یہ عروج دو تین ماہ کاہی ہوگا۔ اگر سیاسی حالات نہ بدلے تو پھر دو تین ماہ بعد پھر سے وہ چخ چخ شروع ہوجائیگی جو ہمارا مقدر بنی ہوئی ہے۔
آج کا موضوع حکومت اور اپوزیشن کی سیاست نہیں بلکہ صرف اور صرف حکومت کی فالٹ لائنز اور حکومتی اوورہالنگ کی طرف توجہ دلانا ہے۔ فتح سفارتی ہو یا جنگی، سیاسی ہو یا معاشی، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسے مواقع پر بڑے لیڈرز ہمیشہ اصلاحات کا اعلان کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت کا جواز یاLegitimacy مسئلہ شروع سے چل رہا ہے مگر حالیہ عالمی واقعات نے اس معاملے کو وقتی طور پر طے کردیا ہے۔ برصغیر کی تاریخ میں اشوک اعظم بہت بڑا نام ہے۔ کالنگا کی فتح کے بعد اس نے اپنی حکومت اور خود کو بدل ڈالا، اسی تبدیلی نے اسے عظیم بنا دیا۔ بسمارک نے جرمنی کو متحد کرنے کے بعد سوشل ویلفیئر منصوبے کا اعلان کیا۔ نپولین بونا پارٹ نے فتح کے بعد نپولین کوڈ نافذ کردیا۔ ابراہم لنکن نے فتح کے بعد غلامی کے خاتمے کا اعلان کیا۔ شہباز شریف بڑے اور عظیم لوگوں کی پیروی میں اپنی منجی کے نیچے ڈانگ پھیریں۔ یہ وقت حکومت کی اوور ہالنگ کا ہے اپنے سیاسی چہرے کو صاف کرکے اسے سامنے لائیں، نوکر شاہی کے چنگل سے نکلیں اچھی گورننس کے نام پر قائم کی گئی خیالی جنت سے باہر قدم رکھ کر عملی دنیا میں آئیں۔
حالیہ واقعات نے شہباز حکومت کو چوٹی پر تو بٹھا دیا ہے مگر چوٹی سے ڈھلوان کا سفر بہت جلد طے ہوجاتا ہے۔ وفاقی کابینہ کے وزراء نوکر شاہی کے غلبے پر حیران و پریشان ہیں۔ ایک وزیر اپنا استعفیٰ جیب میں ڈالے پھرتے ہیں، ایک اور وزیر نے بیرون ملک سفر میں اللے تللے کیے تو سفارتخانے نے بل دینے سے انکار کردیا۔ ہوٹل نے محکمے سے رابطہ کیا تو وہ بھی شوقیہ اخراجات کا بل دینے پر تیار نہ ہوا۔ معاملہ وزیراعظم تک پہنچا تو اُنہوں نے وزیر موصوف کو بل خود ادا کرنے کا کہا۔ تب سے اب تک وزیراعظم، وزیر سے ناراض ہیں۔ کم از کم دو تین وزیر، وزیراعظم سے وزیراعظم سیکرٹریٹ کی طرف سے انکی سمریاں روکنے کی شکایت کرچکے ہیں۔ ایک وفاقی وزیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، شہباز کا حکومتی ماڈل وزیراعلیٰ والا ہے، وزیراعظم والا نہیں۔ اس وزیر نے بتایا کہ وفاق میں وزیر بااختیار ہوتا ہے جبکہ صوبے میں وزیر کو ہر کام کی وزیراعلیٰ سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ وفاق میں کابینہ کا ہر رکن برابر ہوتا ہے۔ وزیراعظم حکومتی سربراہ ضرور ہوتے ہیں لیکن کابینہ مجموعی طور پر سب فیصلوں کی ذمہ داری اُٹھاتی ہے۔ اس وزیر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کیساتھ کام کرنیوالی بیورو کریسی چونکہ صوبے سے آئی ہے اس لیے وہ وفاق کو صوبے کی طرح چلا رہی ہے جس سے بے شمار پیچیدگیاں پیدا ہورہی ہیں۔ ایک اہم ذریعہ نے بتایا کہ وزیراعظم سے ہمدردی رکھنے والے کئی اہم ترین افراد نے وزیراعظم کی توجہ انکے سیکریٹریٹ سے متعلق شکایات کی طرف دلائی اور اُنہیں مشورہ دیا کہ وہ اس حوالے سے بڑی میجر اوور ہالنگ کریں تاکہ انکی حکومت کا چہرہ سیاسی بنے اور فیصلوں کی رفتار تیز تر ہوسکے۔
راقم کافی عرصے سے وفاق اور پنجاب حکومت کے بڑھتے ہوئے خلا کی طرف توجہ دلا رہا ہے، اب یوں لگ رہا ہے کہ یہ خلا کم کرنے کی طرف پہلی بار توجہ دی گئی ہے۔ تاہم اب بھی دونوں حکومتوں میں گہرا فاصلہ، سیاسی مقاصد اور بیانیے کو کمزور کررہا ہے۔ دوسری طرف سیاست کو صحافت سے دور رکھنے کا عمل جاری ہے، اگرچہ سیاست اور صحافت دریا کے الگ الگ دھارےہیں مگر پنجاب اور وفاق دونوں نے صحافیوں سے رابطے کی بجائے" دوسرے طریقے" اپنا لیے ہیں جس سے اُنہیںصحافی اور صحافت کے جھنجھٹ سے نجات مل گئی ہے اور وہ میڈیا میں کامیابی آسانی سے ثابت کر پا رہے ہیں۔ یہ پالیسی مگروقتی اور مصنوعی ہے، جونہی حکومتی طاقت اور اثر و رسوخ ختم ہوگا صحافت سب کچھ کچا چٹھا کھول کر رکھ دے گی۔ حکومتی بیانیہ نہ بننے کی بڑی وجوہات میں سے ایک حکومت کا عوام، صحافت، سیاست سے منہ موڑ کر صرف اقتدار کے ستونوں کو سجدہ کرنا ہے۔ بظاہر اس پالیسی سے کامیابیاں ملتی ہیں اور مل رہی ہیں مگر عوام، سیاست اور صحافت سے ہٹ کر کیا کبھی قیادت اپنے قدم جما سکتی ہے؟ طاقت، زور زبردستی اور دباؤ ایسے ہتھیار ہیں جو وقتی طور پر کارآمد ہوتے ہیں جونہی مشکل وقت آتا ہے، یہ ہتھیار کند ہوجاتے ہیں اور نئی آنیوالی حکومت تیز ترین ہتھیاروں سے لیس ہوجاتی ہے۔اچھی سیاست تومقبولیت اور قبولیت کو ساتھ ساتھ چلا کر صحافت کے ذریعے عوام کو قائل کرنا اور اپنا بیانیہ منواناہے۔ باقی سب راستے عارضی اور مصنوعی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف بہت خوبیوں کے مالک ہیں، تنقید سنتے اور برداشت کرتے ہیں۔ لوگوں کو ساتھ چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مقتدرہ اور سیاسی حکومت کے درمیان جس خوبصورتی سے وہ پل کا کردار ادا کررہے ہیں، اسکی فوج اور ان کی سیاسی جماعت دونوں معترف ہیں۔ پیپلز پارٹی انکی اتحادی ہے اور اسے بھی وزیراعظم شہباز شریف سے ذرہ برابر شکایت نہیں بلکہ وہ ان کی جو بھی شکایت ہو اسے دور کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتی۔ مگر انکا بیورو کریسی پر مکمل انحصار اور سیاست سے مسلسل پہلوتہی وہ کمزوریاں ہیں، جنہیں دور کیے بغیر وہ اپنے سیاسی مخالفین پر فتح نہیں پاسکتے۔
شہبازشریف خوش قسمت وزیراعظم ہیں کیونکہ اُنہیں مقتدرہ سے مکمل اور مسلسل حمایت حاصل رہی ہے۔ کسی بیرونی ملک سے ان کیلئے کوئی مشکل پیدا نہیں کی گئی بلکہ بیرونی ممالک اُنہیں طاقت دے رہے ہیں۔ ملک کے اندر اپوزیشن ان کیلئے مسئلہ تھی مگر حالیہ بحران نے فی الحال اسکا چراغ بھی وقتی طور پر گل کردیا ہے اور اسے دوبارہ جلنے اور جلانے میں دو چار مہینے تو لگیں گے۔ اب شہباز شریف بڑے لیڈروں کی طرح بڑے بڑے فیصلے کریں۔ اپنی سیاسی ذہانت اور فطانت کو عوامی میدان میں آزمائیں۔ یاد رہے کہ پاکستان میں سیاسی حکومتوں کا اوسط دورانیہ دو اڑھائی سال سے زیادہ نہیں رہا۔ حکومت دو سال گزار چکی ہے، اب تیسرا سال شروع ہے۔ یہ انتہائی نازک دور ہے۔ چار سالہ دور کے بعد قومی حکومت بننے کا امکان اسلئے بہت زیادہ ہے کہ تحریک انصاف کو یا اسکے بڑے حصے کو اقتدار میں شریک کیے بغیر اگلے انتخابات کے شفاف اور منصفانہ ہونے پر کسی کو یقین نہیں آئیگا۔ کوئی مانے نہ مانے 4سالہ دور میں سیاست کا باب بند رہا تو پھر سیاست کیلئے قومی حکومت آنے کا امکان بڑھ جائیگا اور ظاہر ہے قومی حکومت چلانے کیلئے مقتدرہ اور ونڈر بوائے دونوں رو بہ عمل آئیں گے۔