مانوس اجنبی…
بیاباں سے گزرتے ہوئے مجھے ایک اجنبی ملا۔
اداسی سے جھلسے اس شخص کے ہاتھ میں ایک پودا تھا۔
تم کون ہو، اور کہاں سے آرہے ہو؟ میں نے سوال کیا۔
وہ ایک بے وطن مسافر تھا، جو اپنا شہر چھوڑ چکا تھا،
کیوں کہ وہاں جنگ چھڑ گئی تھی، جس نے سب تباہ کر دیا۔
بچوں کی قلقاری، بوڑھوں کی نصیحتیں، عورتوں کے گہنے، مردوں کے اوزار،
سب تہوار، ہر شے برباد ہوئی، ہر شے مٹ گئی۔
دوست، تمہیں کہاں ڈراپ کروں؟ میں نے بھاری دل سے سوال کیا۔
’’کسی ایسی جگہ، جہاں میں امید کا یہ پودا لگا سکوں۔‘‘ وہ بولا۔
میں نے ایک خستہ حال عمارت کے سامنے کار روک دی۔
’’یہ بچوں کا اسکول ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’اس پودے کیلئے اس سے بہتر کوئی اور جگہ نہیں۔‘‘