• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان امریکا و ایران میں ثالثی کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے: دفترِ خارجہ

ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی---فائل فوٹو
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی---فائل فوٹو

ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے پُرعزم ہے، پاکستان کی کوششوں سے ایران امریکا جنگ بندی ممکن ہوئی، جسے عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔

ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے، اسلام آباد مذاکرات کے انعقاد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھرپور کردار ادا کیا، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم امن مذاکرات کے انعقاد کے لیے کوشاں رہی، اسلام آباد مذاکرات سے قبل ٹیلیفون رابطوں کے ذریعے پاکستانی قیادت عالمی رہنماؤں سے رابطے میں رہی۔

ان کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم اس وقت 3 ملکوں کے دورے پر ہیں، ان کو مختلف ممالک کی قیادت کی ٹیلی فون کالز موصول ہوئیں، عالمی قیادت نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا، وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے اہم ملاقات ہوئی، امریکا ایران کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی تعمیری اور مثبت کوششوں کو تسلیم کیا گیا، وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے فریقین سے رابطے کے چینلز کھلے رکھے، چیف آف ڈیفنس فورسز گزشتہ روز ایران کے دورے پر پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان لبنان میں اسرائیلی جارحیت اور حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے، پاکستان نے ایس سی او (آر اے ٹی ایس) میں بھرپور شرکت کی، 4 ممالک کے سینئر حکام کے اجلاس کا اسلام آباد میں انعقاد کیا گیا، ان ممالک میں سعودی عرب، ترکیہ اود مصر شامل تھے۔

 ترجمان دفترِ خارجہ نے بھارتی افسر کی ترقی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرنل پروہت سمجھوتہ ایکسپریس حملے میں ملوث رہے، یہ اقدام انصاف کے تقاضوں کے برعکس اور افسوس ناک ہے، سمجھوتہ ایکسپریس حملے کے متاثرین دو دہائیوں سے انصاف کے منتظر ہیں، پاکستان نے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا، بھارت میں احتساب کے نظام پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں، بین الاقوامی برادری اس معاملے کا نوٹس لے۔

طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ بھارت کی نام نہاد حلقہ بندی سے متعلق رپورٹس کا نوٹس لیا ہے، بھارتی پارلیمنٹ میں حلقہ بندی کا عمل مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں حلقہ بندی کا عمل غیر قانونی اور بے بنیاد ہے، یہ عمل ایک متنازع خطے میں کیا جا رہا ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، حلقہ بندی کا مقصد خطے کی آبادی اور سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو سیاسی طور پر مزید محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں حلقوں کی نئی حد بندی کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں، جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ قراردادوں کے مطابق ہونا ہے، بھارت کا آزاد جموں و کشمیر پر دعویٰ بے بنیاد اور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔

بریفنگ کے دوران ان کا کہنا ہے کہ بھارتی قانون سازی اور آئینی اقدامات زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتے، یہ اقدامات اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کسی قانون سازی سے تبدیل نہیں ہو سکتی، کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو دبایا نہیں جا سکتا،  پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔

قومی خبریں سے مزید