گزشتہ دنوں میں نے بازار میں لوگوں کا ایک ہجوم دیکھا جو ایک جگہ جمع تھا میں نے آگے بڑھ کر جھانکا تو ایک طوطے فروخت کرنے والا تھا جس نے کئی پنجروں میں بہت سے طوطے قید کر رکھے تھے مگر لوگ ان طوطوں کو دیکھنے کے لیے یہاں جمع نہ تھے بلکہ ان کی دلچسپی کا مرکز وہ شخص تھا جس نے بھاری قیمت ادا کر کے وہ تمام طوطے خرید لیے تھے اور اب انہیں ایک ایک کر کے آزاد کر رہا تھا تھوڑی ہی دیر میں تمام طوطے قید سے رہا ہو چکے تھے اور اڈاری مار کر کہیں کے کہیں پہنچ چکے تھے مگر ان میں ایک طوطا ایسا بھی تھا جو اڑنے کا نام نہیں لیتا تھا، طوطوں کو آزاد کرنے والے شخص نے اسے کئی بار ہاتھ میں پکڑ کر فضا میں اچھالا مگر وہ ہر بار آزاد اور کھلی فضاؤں میں گم ہونے کی بجائے زمین پر واپس آجاتا اور پھر پھدک پھدک کر واپس اپنے آقا کے قدموں میں پہنچ جاتا۔ یہ غالباً ’’وفادار‘‘ طوطا تھا اور باقی غالباً طوطا چشم طوطے تھے۔
جب میں نے اس نیک دل شخص کو طوطوں کو یوں آزاد کراتے دیکھا تو میرے دل سے دعا ابھری کہ یا خدا! مجھے بھی کچھ وسائل عطا کر کہ میں بھی بہت سے طوطوں کو آزاد کرانا چاہتا ہوں اور پھر چشم تصور میں میں نے دیکھا کہ میری دعا قبول ہو گئی ہے اور میں ایک بہت بڑے پنجرے کے قریب کھڑا ہوں، اس پنجرے میں مختلف قسم کے طوطے بند تھے ان میں سے کچھ بولنے والے تھے اور کچھ ایسے تھے جو بولتے نہیں تھے میں نے علیحدہ علیحدہ ان کی قیمت پوچھی تو دکاندار نے ان کی ایک ہی قیمت بتائی۔ میں نے حیران ہو کر اس کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگا خاموش رہنے والے طوطوں کی قیمت اس لیے زیادہ ہے کہ وہ خاموش رہتے ہیں اور بولنے والے طوطوں کی قیمت اس لیے زیادہ ہے کہ وہ بولتے ہیں ۔ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور رقم گن کر دکاندار کی ہتھیلی پر رکھ دی اس نے پنجرے کا دروازہ کھول دیا پہلے میں نے خاموش طوطوں کو باہر نکا لا اور پھر انہیں ایک ایک کر کے فضا میں اچھال دیا۔ انہوں نے بازار کا ایک چکر لگایا اور پھر خاموشی سے اپنے آقا کے قدموں میں آگئے اس کے بعد میں نے بولنے والے طوطے باہر نکالے اور انہیں فضا میں اچھال دیا۔ بازار کا چکر لگانے کے بعد وہ بھی ٹائیں ٹائیں کرتے ہوئے اپنے آقا کے قدموں میں پھدکنے لگے۔ میں نے مالک سے اس کی وجہ پوچھی تو پیشتر اس کے کہ وہ کوئی جواب دیتا ایک بولنے والے طوطے نے سنہری لکیر والی گردن او پر اٹھائی اور کہنے لگا ہم بازار کا چکر لگا کر آئے ہیں سب کا روبار مندا پڑا ہے۔ روزی پنجرے کے باہر نہیں پنجرے کے اندر ہے اور خاموش رہنے والے طوطوں نے گردن ہلا کر اس کی تصدیق کر دی۔میں نے تعجب سے ایک نظر طوطوں کو اور پھر ان کے مالک کو دیکھا۔ مالک ہنس رہا تھا، طوطے بھی ہنس رہے تھے میں نے اپنی حیرت پر قابو پالیا اور کہا یہ طوطے ہم انسانوں کی باتیں سمجھتے ہیں اور ہم انسانوں کی زبان میں باتیں کرتے ہیں یہ کیا ماجرا ہے؟“مالک نے بتایا یہ طوطے معمولی طوطے نہیں ذہین طوطے ہیں۔ ان میں سے کچھ سیاسی طوطے ہیں، کچھ ادبی اور صحافی طوطے ہیں انقلابی طوطے ہیں۔ اور اسلام پسند طوطے ہیں یہ سب دانا جانور ہیں ! میں نے یہ سن کر اس کی طرف دیکھا اور پوچھا اگر یہ اتنے ہی دانا ہیں، تو انہوں نے تمہاری غلامی کس طرح قبول کر لی ہے! آقا نے جواب دیا ” میں تو محض ان کا رکھوالا ہوں یہ میرے غلام نہیں۔ میں تو خود غلام ہوں ۔ یہ دیکھو! یہ کہہ کر اس نے اپنی پشت پر سے کپڑا اٹھایا جس پر غلامی کا داغ موجود تھا۔تم کس کے غلام ہو؟“ میں نے پوچھا۔’میں جس کا غلام ہوں وہ آگے کسی کا غلام ہے اور یہ سلسلہ بہت دور تک چلا گیا ہے‘۔یہ سن کر میں نے اس مظلوم انسان سے ہاتھ ملایا اور واپس جانے کو تھا کہ اس نے میرے روپوں کی تھیلی مجھے لوٹا دی اور کہا تم ضرورت مند شخص لگتے ہو اپنے روپے واپس لے لو میں نے ممنونیت کی نظروں سے اسے دیکھا اور پیسے جیب میں ڈال لیے۔میں ابھی تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ اس نے ایک بار پھر مجھے پکارا۔ میں اس کے قریب گیا تو اس نے جیب میں سے روپوں کی ایک اور تھیلی نکالی اور مجھے تھماتے ہوئے ایک آنکھ میچ کر کہا ” طوطا بنو گے؟“