• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ہاتھوں بدترین شکست اور دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد پاکستان کی ثالثی میں ہونیوالے پہلے مذاکراتی دور میں تعطل کے بعد اب اگلے مذاکراتی دور کیلئے پاکستان آمد اور ایران کیساتھ باقاعدہ معاہدے کے خواہاں ہیں۔ گزشتہ دِنوں واشنگٹن پوسٹ کیساتھ اپنی بات چیت میں انہوں نے عندیہ دیا کہ ’اگلے دو دنوں میں کچھ بھی ہوسکتا ہے اور ہم وہاں (پاکستان) جاسکتے ہیں‘۔امریکی صدر نے مذاکرات کے پہلے دور کیلئے پاکستان آئے صحافیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ابھی اسلام آباد میں ہی رُکے رہیں جبکہ دوسری طرف امریکی میڈیا یہ خبر بھی دے رہا ہے کہ مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے بھی جے ڈی وینس ہی اسلام آباد جائیں گے۔ دوسری طرف چین نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ مئی میں طے شدہ صدر ٹرمپ کے دورہ چین سے پہلے امریکہ ایران کیساتھ باقاعدہ معاہدہ کرلے تو بہتر ہوگا، وگرنہ صدر ٹرمپ کا دورہ چین امریکہ کیلئے مثبت نتائج لانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرپائے گا۔ 11اور 12اپریل کی درمیانی شب اسلام آباد میں منعقدہ پہلے مذاکراتی عمل میں دونوں وفود کے درمیان مذاکرات کے تین ادوار ہوئے۔پہلا دور بالواسطہ تھا جس میں پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ایجنڈاطے ہوا۔ دوسرا دور براہ راست تھا جس میں عراقچی اور وینس آمنے سامنے بیٹھے، پھر ورکنگ ڈنر ہوا۔ تیسرا دور تکنیکی تھا جس میں دونوں طرف کے ماہرین نے مخصوص نکات پر تفصیلی بات کی۔ اس دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کمرے میں موجود رہے، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ 1979ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایران اور امریکہ میں اعلیٰ سطح پر براہ راست آمنا سامنا ہوا ہے۔ صرف چھ ہفتے پہلے امریکہ نے ایران کے رہبر اعلیٰ کو وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں شہید کیا۔ آج وہی امریکی چالیس ر وزہ جنگ میں بدترین شکست کے بعد ایرانی مذاکرات کاروں کیساتھ ایک چھت تلے بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہیں، مگر میز کے نیچے آگ لگی ہوئی ہے۔ سفارتکاری عجیب فن ہے۔ ایران آبنائے ہُرمز پر مکمل اختیار چاہتا ہے، جبکہ امریکہ نے مشترکہ کنٹرول تجویز کیا جسے ایران نے مسترد کر دیا۔ دوسری طرف امریکہ ایران کے جوہری پروگرام سے دستبرداری کا خواہاں ہے، یہی وہ دو معاملات ہیں جن پر سنگین اختلافات کے باعث دونوں ممالک کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے، تاہم اب امریکہ کی طرف سے اگلے دور کے مذاکرات کیلئے بے تابی اور ایران کی طرف سے بھی مشروط آمادگی سے واضح ہے کہ یہ مذاکرات اگلے دِنوں میں اسلام آباد میں حسبِ سابق پاکستان ہی کی میزبانی میں منعقد ہونگے اور اس دفعہ امریکی صدر ٹرمپ اور ممکنہ طور پر ایرانی صدر مسعود پژشکیان مذاکرات میں شرکت کرکے حتمی معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور یوں خطے پر مسلط بدترین امریکی اسرائیلی جارحیت سمیت طویل عرصے سے جاری مشرقِ وسطیٰ کی تباہی و بربادی پر مبنی صہیونی امریکی منصوبہ اپنے اختتام کی طرف گامزن ہوگا۔ تاہم اسرائیل سے اب بھی یہ توقع رکھنا عبث ہوگا کہ وہ کسی صورت گریٹر اسرائیل کے شیطانی منصوبے سے دستبردار ہونے پر آمادگی ظاہر کرے۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات سے قبل، مذاکرات کے دوران اور بعد میں بھی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اِن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی نہ صرف سرتوڑ کوشش کی بلکہ لبنان پر وحشیانہ بمباری اور سیکڑوں معصوم لبنانی شہریوں کی شہادتوں، سول انفراسٹرکچر، گنجان آباد شہری آبادی حتی ٰ کہ اسپتالوں کو نشانہ بناکر اپنی سفاکیت کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ جنگ میں ناکامی کے بعد اب امریکہ چین پر الزام لگا رہا ہے کہ وہ ایران کو نیا فضائی دفاعی نظام بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے اور ساتھ ہی چین کو دھمکی دی کہ اگر چین نے ایسا کیا تو بڑے مسائل ہونگے۔ امریکہ کیلئے بات اب وسیع اصولوں سے آگے بڑھ کر تکنیکی تفصیلات تک پہنچ گئی ہے، جو اچھی علامت ہے۔ مذاکرات کاوسیع اصولوں سے آگے بڑھ کر تکنیکی تفصیلات تک پہنچنا محض الفاظ کی تبدیلی نہیں ہے۔ سفارتکاری میں وسیع اصول اور تکنیکی تفصیلات کا فرق وہی ہے جو نقشے اور زمین کا ہوتا ہے نقشے پر سب آسان ہوتا ہے، زمین پر سب مشکل ہوتا ہے۔ ایران کے 10نکات اور امریکہ کے 15نکات وسیع اصول ہیں۔ تکنیکی دور میں ہر نکتے کے اندر وہ سوال اٹھتے ہیں جن کا جواب صرف ماہرین دے سکتے ہیں۔ اسی لیے ایران نے 71 آدمیوں کا وفد بھیجا اور اسی لیے وائٹ ہاؤس نے کہا کہ متعلقہ موضوعات پر امریکی ماہرین کی مکمل ٹیم اسلام آباد میں ہے۔ دی نیشنل اور ایپوک ٹائمز نے جو ایجنڈا بتایا ہے اس سے تکنیکی دور میں کم از کم پانچ شعبوں پر بات ہو رہی ہو گی: پہلا: ایٹمی پروگرام۔ امریکی 15 نکاتی تجویز میں ایران سے مطالبہ ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہو اور افزودہ یورینیم بین الاقوامی نگرانی میں حوالے کیا جائے۔ تکنیکی سوالات یہ ہیں: کتنا یورینیم ہے؟ کس سطح تک افزودہ ہے؟ کہاں ذخیرہ ہے؟ نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ ایران کا تمام اعلیٰ افزودہ یورینیم ملک میں موجود ہے، ممکنہ طور پر ان افزودگی مراکز میں دفن ہے جن پر جون 2025ء میں بمباری ہوئی تھی۔ ایران نے اس کے بعد سے افزودگی نہیں کی مگر کہتا ہے کہ پرامن مقاصدکیلئے یہ اس کا حق ہے۔

تازہ ترین